انوارالعلوم (جلد 10) — Page 617
صرف چند سو آدمیوں کی نمائندہ ہوتی ہیں، اول الذکریا اگر اس پر عمل نہ ہو تو ثانی الذکر تجاویز زیادہ کارآمد ہوں گی- اگر مسلم نمائندوں نے اول الذکر تجویز کے مطابق عمل نہ کیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہماری جماعت اپنے خیالات سے مذکورہ بالا تینوں جماعتوں کو آگاہ کر دے گی- ایک نہایت مفید تجویز ایک اور تجویز ہے جس کے خلاف مسلمان اخبارات نے آواز اٹھائی ہے اور وہ کمیٹی کی یہ تجویز ہے کہ ایک حصہ مرکزی مجلس کا صوبہ جات کی کونسلوں کے توسط سے چنا جائے- میں اس امر میں ان اخبارات کی رائے سے متفق نہیں- میرے نزدیک انہوں نے غور نہیں کیا کہ صوبہ جات کی کونسلوں کی خود اختیاری کو قائم نہ رکھنے کے لئے اور مرکزی مجلس کو اس کی حدود کے اندر رکھنے کے لئے یہ تجویز ایک نہایت مفید آلہ ہو سکتی ہے- ممالک متحدہ میں اس غرض کو پورا کرنے کے لئے سینٹ کام دیتی ہے- اگر کونسل آف سٹیٹ کا انتخاب اسی اصول پر نہ ہو تو کسی قدر تعداد اسمبلی کے ممبروں کی ضرور اسی طرح چنی جانی چاہئے اور اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہے نہ کہ نقصان اگر اس تجویز پر عمل کیا گیا تو دوسرے ہندو صوبہ جات بھی مسلمانوں کے اس مطالبہ کی ہمیشہ تائید کریں گے کہ صوبہ جات کو کامل اندرونی آزادی حاصل ہونی چاہئے- ایسے ممبر صوبہ جات کی کونسل کے وکلاء کے طور پر ہوں گے- مگر یہ ایک جزوی سوال ہے، اس پر اس قدر زور دینے کی بھی ضرورت نہیں- مسلمان اخبارات سے خطاب میں آخر میں مسلمان اخبارات کو اس طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارا موجودہ اختلاف چاہتا ہے کہ ہماری آپس کی مخالفت خواہ کیسی پرزور ہو مگر اس میں نیتوں پر حملہ نہ ہو- اور اگر دل میں ہمیں یقین بھی ہو جائے کہ ایک شخص محض نیک نیتی سے کام نہیں کر رہا تو بھی قومی کاموں میں ایسے خیالات کے اظہار سے ہم حتی الوسع باز رہیں تاکہ بجائے فائدہ کے نقصان نہ ہو- اگر اس شخص کی نیت خراب ہو گی تو اس کا اندرونہ خود ظاہر ہو کر رہے گا اور خدا تعالیٰ اس سے گرفت کرے گا- لیکن اگر ہم اپنے اندازہ میں غلطی کریں گے تو یقین¶ا ہم گنہگار بنیں گے- پس ہمیں اپنی نکتہ چینی کو صرف ظاہر تک محدود رکھنا چاہئے اور دلوں کے اسرار کو نکالنے کی یا سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے- اگر اخلاقی اور مذہبی بناء پر ہم ایسا نہ کریں تو کم سے کم سیاسی مصلحت کے طور پر ہی اس طریق کو اختیار کر لیں- اس کے اختیار کرنے میں ہمارا کوئی نقصان نہیں- بلکہ