انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 613 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 613

۶۱۳ بلکہ ہندؤوں کی دولت اور ان کے اثر کو دیکھتے ہوئے برابری سے بھی کم ہے- ایک سو پینسٹھ (۱۶۵) ممبروں میں سے تراسی (۸۳) کے معنے یہ ہیں کہ ایک فی صدی کی زیادتی بھی مسلمانوں کو نہیں دی گئی- حالانکہ انہیں تعداد کے لحاظ سے دس فی صدی زیادتی حاصل تھی- ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایک سو پینسٹھ میں سے ایک کی زیادتی زیادتی نہیں ہے- کیونکہ کوئی نظام ایسا مضبوط نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک آدمی کو بھی باہر نہ جانے دے اور اس تعداد کا تسلیم کر لینا کہ جس کی وجہ سے صرف ایک آدمی کے پھر جانے سے اکثریت اقلیت بن جائے، نہایت ہی خطرناک ہے- اس میں اخلاقاً بھی مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچے گا، کیونکہ دنیا کی نظر میں وہ اکثریت کے حقوق حاصل کر چکے ہوں گے اور اگر جیسا کہ ان حالات میں امید ہے انہیں نقصان پہنچا تو دنیا یہی کہے گی کہ جو باوجود اکثریت کے اپنے جائز حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتے وہ خود ہی نالائق ہیں پارلیمنٹ کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ چار پانچ فیصدی کی اکثریت بھی اکثریت نہیں سمجھی جایا کرتی اور ان حالات میں اکثر حکومتیں مستعفی ہو جایا کرتی ہیں- پس ایک فیصدی اکثریت ہر گز اکثریت نہیں ہے اور مسلمانوں کے تسلیم شدہ اور عقلاً ناقابل تردید اصل کو مسلم ممبران نے اپنی پیش کردہ تجویز سے بالکل رد کر دیا ہے- لفظی کثرت ہرگز ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی- کثرت وہ کہلا سکتی ہے جو معقول حد تک موثر ہو ورنہ لفظ کثرت اپنے اندر ہرگز کوئی ایسا جذب نہیں رکھتا کہ ہم محض اس کی خاطر ملک میں اختلاف پیدا کر لیں- جہاں تک میں سمجھتا ہوں مسلمان ممبران کمیٹی کو بعض اصولی غلط فہمیاں ہوئی ہیں جن کی وجہ سے انہوں نے ایسی سخت غلطی کا ارتکاب کیا ہے- پہلی غلطی اول ان کو یہ یقین دلایا گیا ہے کہ گورنمنٹ موجودہ صورت میں ان کی تائید کرے گی- پس اس خیال سے کہ ان کے مطالبات ضرور منظور ہو جائیں اور کم سے کم وہ اکثریت جو اب غیر مسلموں کو حاصل ہے دور ہو جائے، انہوں نے اس تجویز کو قبول کر لیا حالانکہ انہیں یہ سوچنا چاہئے تھا کہ اس وقت یہ سوال نہ تھا کہ کیا منظور ہو گا یا نہ ہو گا، بلکہ قومی مطالبات کو پیش کرنا مطلوب تھا- پس خواہ گورنمنٹ ان کے مطالبات کی کسی قدر بھی مخالفت کرتی، انہیں چاہئے تھا کہ وہ اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی ادھر ادھر نہ ہوتے تا کہ ایک دفعہ مسلمانوں کے مطالبات ان کے نمائندوں کے ذریعہ سے ریکارڈ میں آ جاتے- اگر گورنمنٹ