انوارالعلوم (جلد 10) — Page 600
۶۰۰ نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں ؓ فرمانے لگے اس وقت مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا کہ ایک تو وہ زمانہ تھا کہ میرا یہ حال تھا۵؎ اور ایک یہ زمانہ ہے کہ جب خدا نے فضل کیا- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانے کے مطابق فتوحات ہوئیں اور میں ایران کے بادشاہ کے رومال میں تھوکتا ہوں- حضرت ابوہریرہؓ فتوحات کے زمانہ میں مصر کے گورنر بھی بنا دیئے گئے تھے- الغرض دنیا میں جب خدا کے نبی آتے ہیں تو لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں- وجہمخالفت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ خیال کر لیتے ہیں کہ جو حکومت ہمیں حاصل ہے وہ اسے حاصل ہو جائے گی- ایسے لوگوں کو چھوٹا بنا دیا جاتا ہے اور جو نبی کو قبول کرتے ہیں انہیں ادنیٰ حالت سے بڑا بنا دیا جاتا ہے- حضرت موسیٰ علیہ السلام جب مبعوث ہوئے تو ان کی قوم نہایت ذلیل سمجھی جاتی تھی- اینٹیں پاتھنے کا کام ان سے لیا جاتا تھا لیکن حضرت موسیٰ کو مان کر وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئی- اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے آپ کے ماننے والے بھی ادنیٰ قوموں سے تعلق رکھتے تھے حواری اور مچھلیاں پکڑنے والے آپ کے متبع تھے مگر خدا نے ان کو عزت دی- باقی جو بڑے بنے بیٹھے تھے، ان سب کو ذلیل و رسوا کر دیا- آج بھی خدا نے ایک مامور بھیجا ہے جس کے ہاتھ پر ہم سب احمدیوں نے بیعت کی ہے- یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام- الہٰی سلسلوں کی طرح یہ سلسلہ بھی پہلے بہت کمزور سمجھا جاتا تھا مگر جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے سلسلہ ترقی کرتا جاتا ہے اور اس کی عظمت لوگوں کے دلوں پر بیٹھتی جاتی ہے- ایک دفعہ کچھ حنفی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے لے گئے- بٹالہ پہنچنے پر آپ نے فرمایا- پہلے میں یہ تو معلوم کر لوں کہ وہ کہتے کیا ہیں؟ مولوی محمد حسین صاحب نے بتایا کہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ قرآن کریم کی بات بہرحال مقدم ہے اور حدیث موخر- اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا یہی ٹھیک ہے میں بھی اسے درست سمجھتا ہوں- حضرت صاحب کے اس جواب پر مباحثہ کے لئے لے جانے والے تالیاں پیٹنے لگے مگر آپ نے ان کی تالیوں کا کچھ بھی خیال نہ کیا اور خدا اور خدا کے رسول کے حکم کے خلاف کچھ کہنا گناہ سمجھا- جب آپ قادیان کو واپس لوٹے تو راستے میں الہام ہوا- آج تو نے میری خاطر ذلت قبول کی ہے- مگر میں تجھے عزت دوں گا اور تمام دنیا میں تیرا نام معزز کروں گا- بظاہر یہ بات معمولی نظر آتی ہے- مگر غور کیا جائے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ فعل بہت بڑی بات تھی-