انوارالعلوم (جلد 10) — Page 596
۵۹۶ پہنچایا تو آپ کی باتوں میں کوئی ایسی بات نہ تھی جو بری ہو- آپ نے ایک بات بھی ایسی نہ کہی جس سے مخالفین یہ نتیجہ نکالتے کہ یہ شخص اپنی بڑائی چاہتا ہے اور ہمیں گرانا چاہتا ہے- اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا حکم دیا تو اس میں آپ کا کوئی ذاتی فائدہ نہ تھا، سراسر دوسروں کا ہی فائدہ تھا- اگر آپ نے حقیقی مالک کو راضی کرنے کی تعلیم دی تو جو لوگ اس تعلیم پر چلتے اور اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیتے ان کی اپنی ذاتوں کو ہی فائدہ پہنچتا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ ہوتا- اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکٰوۃ دینے کا حکم دیا تو اس میں بھی لوگوں کا ہی فائدہ تھا نہ کہ آپﷺ کا- آپﷺ نے تو سیدوں کو زکٰوۃ لینے سے منع کر دیا حالانکہ سیدوں میں بھی غریب ہوتے ہیں- تو نہ صرف آپ زکٰوۃ کے مال سے مجتنب رہے بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی فرما گئے کہ ان کے لئے زکٰوۃ کا مال جائز نہیں-۲؎ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولنے سے منع فرمایا اس میں آپ کو کیا فائدہ حاصل ہوتا تھا کونسی جاگیر مل جاتی تھی یہ صرف لوگوں کے فائدہ کے لئے آپ نے تعلیم دی- اسی طرح چوری کرنے سے منع فرمایا- اس سے بھی آپ کی ذات کو کچھ فائدہ نہ تھا صرف لوگوں کے بھلے کے لئے فرمایا- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں تو بعض اوقات کھانے کو بھی کچھ نہ ہوتا تھا اس حالت میں یہ خیال نہیں کیا جا سکتا کہ آپ نے جو چوری سے منع فرمایا تو اس لئے کہ تا آپ کے گھر محفوظ رہیں بلکہ یہ حکم صرف لوگوں کے اموال کی حفاظت کیلئے دیا- اسی طرح آپﷺ~ نے ظلم کرنے سے منع فرمایا یہ حکم بھی اس لئے دیا تا لوگ ایک دوسرے کے ظلم سے بچیں ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تو علیحدگی میں عبادت کر کے اپنا وقت گزارتے تھے- پس جو بھی تعلیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو دی نہ تو اس میں کوئی برائی تھی اور نہ آپﷺ~ کی اس میں کوئی ذاتی غرض تھی- آپﷺنے جھوٹ سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی، چوری سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی، بدکاری سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی، عرب لوگ شراب سے بدمست رہتے تھے ان کو شراب پینے سے منع فرمایا اس میں کونسی بری بات تھی مگر باوجود اس کے پھر بھی لوگوں نے آپ کو سخت تکلیفیں دیں- آپ کے ماننے والوں پر ایسے ظلم و ستم ڈھائے کہ وہ ہمیشہ مصائب کا تختہ مشق بنے رہے- ان تکالیف سے تنگ آ کر بعض صحابہ ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور ہجرت کر کے حبشہ میں جا کر پناہ گزیں ہوئے مگر مکہ والوں کی اس سے بھی تسلی نہ ہوئی کہ چار پانچ سو کوس پر بھی وہ اپنے غریب