انوارالعلوم (جلد 10) — Page 595
۵۹۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم نبی کے زمانہ میں چھوٹے بڑے اور بڑے چھوٹے کئے جاتے ہیں (فرمودہ ۱۶- اگست ۱۹۲۹ء بمقام یاڑی پورہ کشمیر) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا-: قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ جب کسی بستی میں فاتحانہ طور پر داخل ہوتا ہے- توجعلوا اعزة اھلھا اذلة۱؎وہ اس کے بڑے لوگوں کو چھوٹا اور چھوٹوں کو بڑا کر دیتا ہے- اور ہم دیکھتے ہیں دنیا میں جب کبھی حکومت بدلتی ہے تو جہاں نیا بادشاہ اور نئے حاکم ہو جاتے ہیں وہاں اس کے ساتھ دنیا میں بہت بڑا تغیر بھی واقع ہوتا ہے- وہ لوگ جو اس ملک میں بڑے سمجھے جاتے ہیں، جن کے ہاتھوں میں سب کام ہوتے ہیں، وہ اپنی عزت اور حکومت کی حفاظت کیلئے نئے بادشاہ سے مقابلہ کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اگر کوئی اور بادشاہ قابض ہو گیا تو ان کی حکومت میں خلل واقع ہوگا- اگر اس مقابلہ میں نیا بادشاہ غالب آ جاتا ہے تو وہ چھوٹوں کو بڑا بنا دیتا ہے اور بڑوں کو چھوٹا کر دیتا ہے- خدائی سلسلوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مبعوث ہوئے تو عرب میں گو کوئی بادشاہ نہیں تھا مگر ہر علاقہ میں بڑے بڑے لوگ تھے جو اپنے اپنے علاقہ پر حکومت کرتے تھے- مدینہ میں، طائف میں، حضرموت میں، یمن وغیرہ میں، غرض ہر علاقہ میں رئیس تھے- جب آپ نے نبوت کا پیغام