انوارالعلوم (جلد 10) — Page 590
۵۹۰ یعنی وہ لوگ جو دوسروں سے آگے نکلنے اور اول رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان لوگوں میں سے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی ہر اک چیز کو قربان کر دیتے ہیں یا ایسے لوگوں کے ممد اور معاون ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو مذکورہ بالا جماعت کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں، خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ خدا تعالیٰ سے راضی ہو گئے اور اسی نے ان لوگوں کے لئے ایسے باغات تیار کئے ہیں جن کے اندر نہریں چلتی ہیں اور وہ ان میں بستے چلے جائیں گے- یہ بہت بڑی کامیابی ہے- اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے- آرام اور آسائش کے سامان اس کے نتیجہ میں ملتے ہیں خود مقصود بالذات نہیں ہوتے- اور نیز یہ بتایا گیا ہے کہ کامیابی کا گر یہ ہے کہ کوئی قوم ان مقاصد عالیہ کے حصول کے لئے جو قربانی چاہتے ہیں اور جن کا فائدہ بادی النظر میں انسان کی اپنی ذات کو نہیں بلکہ دوسروں کو ہی پہنچتا ہے، دوسری اقوام سے آگے بڑھنے اور اول رہنے کی کوشش کرے- یہ وہ گر ہے جسے ہماری قوم نے نظر انداز کر دیا ہے- اور یہی وہ گر ہے جس کے بغیر کامیابی ناممکن ہے- ہمارے اندر دولت مند بھی ہیں اور صاحب جائداد بھی لیکن باوجود اس کے ہم کامیاب نہیں- اس لئے کہ ہماری قوم اور ہمارے اہل ملک کی کوششیں اپنے نفس کی عزت اور اپنے آرام کے حصول کے لئے خرچ ہوتی ہیں- لیکن کامیابی کا گر یہ ہے کہ قوم سب کی سب مہاجر ہو جائے- یعنی اپنے نفس کو بھلا کر ان کاموں میں لگ جائے جو نبی نوع انسان کی مجموعی ترقی کا موجب ہوں یا انصار بن جائے یعنی ایسے لوگوں کی مدد گار اور معاون ہو حتیٰ کہ دنیا کا ہر ایک ملک اپنے گرد و پیش ایسے سامان دیکھے جن کے بغیر اس کا گذارہ مشکل تھا اور جن کا حصول اسی قوم کی شدید قربانیوں کے بغیر ناممکن تھا- یہ قوم کامیاب ہوتی ہے اور اس کا ذکر خیر دنیا سے کبھی نہیں مٹ سکتا- میں امید کرتا ہوں کہ میرے برادران وطن اسی صداقت کو سمجھ کر اس کی طرف پوری توجہ کریں گے- خالی نقل سے وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ بعض علوم و فنون میں السابقون الاولون ہونے کی کوشش نہیں کریں گے اور دوسری اقوام کو اپنے پیچھے چلانے میں کامیاب نہ ہوں گے وہ برابر ناکامی کا منہ دیکھتے رہیں گے- لیکن کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ہماری سابقہ ناکامیاں ہمیں بیدار کر دیں- کیا ہماری پستی کے لئے کوئی قعر مذلت باقی ہے جس تک گرنا ہمارے