انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 578 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 578

۵۷۸ خوبی کو تسلیم کرنا چاہئے- جو شخص کہتا ہے کہ دوسرے مذاہب میں کوئی خوبی نہیں، وہ غلطی کرتا ہے- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ایسی اعلیٰ تعلیم دی ہے کہ اس کے ذریعہ تمام اقوام کے دل رکھ لئے ہیں- کسی کے مذہب کے متعلق یہ کہنا کہ اس میں کوئی بھی خوبی نہیں اس مذہب کے پیروؤں کے لئے بہت تکلیف دہ بات ہے- اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اصل پیش کیا ہے کہ ہر قوم کی خوبی تسلیم کرو- اس طرح آپ نے تمام قوموں پر بہت بڑا احسان کیا ہے- دوم-: آپ نے فرمایا کسی مذہب کے افراد کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ اپنے مذہب کو قریب سے مانتے ہیں- باوجود اس کے کہ پہلے مذاہب بگڑ چکے ہیں تاہم ان کے ماننے والوں میں سے اکثر انہیں دل سے سچا سمجھتے ہیں- چنانچہ قرآن کریم میں بعض یہود اور نصاری کی تعریف آئی ہے- یہودیوں کے متعلق آتا ہے ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر انہیں پہاڑ کے برابر بھی سونا دے دو تو وہ اس میں خیانت نہ کریں گے- اس سے معلوم ہوتا ہے- یہودیوں میں ایسے لوگ تھے جو اپنے مذہب کو سچا سمجھ کر مانتے تھے- آج کل مسلمانوں میں بھی یہ نقص پیدا ہو گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں دیگر مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذاہب کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور باوجود اس کے ان کو نہیں چھوڑتے- حالانکہ ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں میں سے ۹۹فی صدی ایسے ہیں جو اپنے مذہب کو سچا سمجھ کر مانتے ہیں- اسی طرح عیسائیوں کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ ان میں ایسے لوگ ہیں جو خدا کا ذکر سن کر رونے لگ جاتے ہیں، خشیت سے ان کے دل بھر جاتے ہیں- کیا ایسے لوگ اپنے مذہب کو فریب سے ماننے والے ہو سکتے ہیں- یہ تعلیم دے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر مذاہب کے لوگوں کے احساسات کا ادب اور احترام کرنا سکھایا ہے- تیسری تعلیم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دی ہے کہ آپ نے حکم دیا سب قوموں کے متعلق تسلیم کرو کہ ان میں انبیاء آئے- اس بات پر اجمالی طور پر ایمان لاؤ کہ سب اقوام میں نبی آئے- اس طرح آپ نے انٹرنیشنل لاء (INTERNATIONALLAW) کو مذہب میں جاری کر دیا- گزشتہ جنگ کے دوران میں روس کی حکومت میں تبدیلی ہو گئی جس پر باقی حکومتیں اس حکومت کو تسلیم نہیں کرتیں- روسی اس کے لئے منتیں کرتے ہیں مگر ان کی شنوائی نہیں ہوتی- بعض لوگ کہیں گے دوسری حکومتوں کے تسلیم کر لینے سے کیا فائدہ ہوتا ہے کہ