انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 574 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 574

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۷۴ توحید باری تعالٰی کے متعلق آنحضرت کی تعلیم کیونکہ اللهُ الصَّمَدُ صمد وه ۔ مد وہ ہے جس کی مدد کے بغیر کوئی چیز قائم نہ قائم نہ رہ سکے ۔ اللہ تعالیٰ کا سہارا اس کی صفات کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ خیال کرنا شرک ہے کہ کوئی اور ہستیاں بھی ہیں جن کی مدد کے بغیر کوئی چیز زندہ اور قائم نہیں رہ سکتی۔ یا کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ سوم یہ کہ کوئی خیال کرے خدا ایک زمانہ میں تھا مگر پھر فوت ہو گیا اور آگے اس کی اولاد چل پڑی۔ یہ یہ بھی شرک ہے۔ اس سے خدا خدا نے تعالیٰ میں یہ نقص ماننا پڑتا ہے کہ وہ فنا ہو جاتا ہے۔ یہ ازلیت کے لحاظ سے شرک ہے۔ چهارم یہ کہ کسی کو خدا کا ہمسر ماننا بھی شرک ہے۔ یعنی یہ کہ کسی دوسرے کو خدا نے اپنی طاقتیں دے دیں اور وہ اس طرح خدا کے برابر ہو گیا۔ یہ بھی شرک ہے ۔ یہ چار اقسام شرک کی ہیں۔ دنیا کے سارے شرک ان کے اندر آجاتے ہیں۔ پھر توحید کے متعلق فرمایا۔ اللهُ لا إلهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَاتَا خُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيم هو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں الْحَيُّ الْقَيُّومُ وہ اپنی ذات میں زندہ ہے اور دوسروں کو زندہ رکھتا ہے لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمُ پھر اس کے کاموں میں وقفہ نہیں پڑتا۔ اگر کوئی یہ تا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے کاموں میں وقفہ پڑ جاتا ہے تو وہ بھی شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ کیونکہ وقفہ ماننے کا یہ مطلب ہوا کہ اگر خدا کا تعلق دنیا سے سے نہ رہے تو بھی دنیا اپنے آپ چل سکتی ہے۔ تو فرمایا لَا تَا خُذُهُ سِنَةٌ ولا نوم کہ اسے نیند یا اونگھ کبھی نہیں آئی ۔ لَهُ مَا فِي السَّمَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ بِر ایک چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انسان کو چاہیئے ہر چیز کے متعلق یہی سمجھے کہ اس کا اصل مالک خدا ہی ہے اور کسی کا اختیار اس پر نہیں ہے۔ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ پھر یہ بھی تسلیم کرے کہ بے شک دعائیں قبول کرنے کا سلسلہ خدا تعالیٰ نے جاری رکھا ہے۔ مگر یہ خیال نہ کرے کہ کوئی خدا سے کوئی بات زور سے منوا سکتا ہے۔ خدا خود کسی امر کے متعلق اجازت دے کہ لو اب مانگو۔ تو انسان مانگ سکتا ہے، ورنہ نہیں۔ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وه جانتا ہے جو ہو چکا یا جو ہو گا۔ توحید کے لئے علم کامل ہونا بھی ضروری ہے