انوارالعلوم (جلد 10) — Page 573
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۷۳ توحید باری تعالی کے متعلق آنحضرت کی تعلیم لیکن اگر وہ معدہ کی اس خاصیت کو بدل دے تو پھر خواہ کوئی کتنا مگنیشیا پے جلاب ہی نہ لگیں گے۔ غرض بغیر توحید ماننے کے سائنس چل ہی نہیں سکتی اور نہ کوئی دنیا میں ترقی ہو سکتی ہے۔ دوم: بغیر توحید کے علم کی تحقیق کی جرات بھی کسی کو نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اگر یہ سمجھا جائے کہ اور چیزوں میں بھی خدائی طاقتیں ہیں تو ان کی تحقیقات کرنے کی کیونکر جرات کی جائے گی۔ مثلاً جو شخص کسی چیز کے متعلق یہ سمجھے کہ وہ بھی رب ہے اسے چیرنے پھاڑنے کے لئے کس طرح تیار ہو سکے گا۔ لیکن جب یہ عقیدہ ہو کہ ایک ہی خدا ہے جس نے باقی سب چیزیں انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں تو پھر انسان ان اشیاء کی تحقیقات کریں گے اور اس طرح علوم میں ترقی ہوگی۔ چنانچہ رسول کریم ملی کے توحید پر زور دینے کے بعد علوم میں اس قدر ترقی ہوئی جس کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں ملتی۔ رسول کریم ملی کے زمانہ سے لے کر ۱۳ سو سال کے اندر اندر علوم نے اس قدر ترقی کی ہے کہ جو پہلے کسی زمانہ میں نہیں ہوئی۔ یہ توحید کی وجہ سے ہی علوم نے ترقی کی۔ جب لوگوں نے یہ سمجھا کہ تمام چیزوں کا ایک ہی خدا ہے اور اس نے سب چیزیں انسان کے فائدہ کے لئے پیدا کی ہیں تو اس سے علوم میں ترقی کرنے کے دروازے کھل گئے۔ ہر چیز کے متعلق تحقیقات شروع ہو گئی۔ ان پہلوؤں کے علاوہ جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے رسول کریم میں ہم نے اور طرح بھی توحید کو قائم کیا ہے۔ یعنی اصولی طور پر توحید کی تعلیم دی ہے۔ آپ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ توحید کو ما توحید کو مان لو۔ بلکہ یہ یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح مانو۔ اسی طرح آپ نے میں پ نے یہی نہیں فرمایا کہ شرک نہ کرو بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ کس طرح شرک نہ کرو اور کس طرح اس سے بچو۔ پھر آپ نے صرف یہ نہیں کہا کہ توحید کو مان لو بلکہ توحید کے دلائل دے کر کہا ہے کہ اسے مانو۔ اسی طرح آپ نے صرف یہی نہیں کہا کہ شرک نہ کرو بلکہ دلائل دے کر شرک کی بُرائی سمجھائی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں شرک کے متعلق آتا ہے ۔ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ - اللَّهُ الصَّمَدُ - لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ - وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ہے اس میں چار اقسام کا شرک پیش کر کے اس کارڈ کیا گیا ہے۔ فرمایا شرک چار طرح کیا جا سکتا ہے۔ اول شرک احدیت کے لحاظ سے کہ خدا کی ذات ایسی کوئی اور ذات قرار دی جائے۔ یہ درست نہیں کیونکہ هُوَ اللهُ أَحَدُ اللہ ایک ہی ہے کوئی اس کا ہم پایہ نہیں۔ دوم یہ یہ کہ صفات کے لحاظ سے خدا کا شریک مقرر کیا جائے۔ یہ بھی نادرست ہے۔