انوارالعلوم (جلد 10) — Page 572
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۷۲ توحید باری تعالیٰ کے متعلق آنحضرت کی تعلیم سی ہم نے توحید کے متعلق عظیم الشان تغیر پیدا کیا ہے۔ کیونکہ ارتقاء کے مسئلہ کے رُو سے ماننا پڑتا ہے کہ دنیا نے آہستہ آہستہ ترقی کی لیکن توحید کے متعلق ساری ترقی آپ کے زمانہ میں مکمل ہو چکی تھی۔ آپ نے توحید کی جو تشریح فرمائی ، اس کے بعد کوئی نئی تشریح آپ کے زمانہ میں یا آپ کے بعد نہیں نکلی۔ اس لئے ماننا پڑے گا کہ خیال انسانی کا ارتقاء آ۔ آپ کی ذات میں آ کر مکمل ہوا اور دنیا کے لئے آپ ہی مقصد اعظم تھے۔ جب آپ مبعوث ہو گئے تو پھر توحید مکمل ہو گئی اور آپ نے توحید کی وہ تشریح پیش کر دی کہ اس کے بعد کسی اور تشریح کی ضرورت نہ رہی۔ اء میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ملی اسلام سے پہلے جتنے رشی ، منی اور رسول گزرے ، انہوں نے توحید کو ناقص طور پر پیش کیا۔ کیونکہ توحید کو ناقص رنگ میں پیش کرنے والا نبی ہی نہیں ہو سکتا۔ جو بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی ہو کر آیا، اس نے مکمل توحید پیش کی۔ مگر اپنے زمانہ کے لحاظ سے مکمل پیش کی۔ اگر مسئلہ ارتقاء کو تسلیم کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ رسول کریم ملی ایم کے وقت توحید کا نقطہ کمال کو پہنچ گیا اور ہمیشہ کے لئے مکمل ہو گیا۔ پیش کرتا ہوں۔ اب میں علمی لحاظ سے مسئلہ توحید کی اہمیت علمی لحاظ سے مسئلہ توحید کی اہمیت اول: علم سائنس میں بغیر توحید کے ترقی نہیں ہو سکتی۔ سائنس اس قانون کی دریافت کا نام ہے جو دنیا میں جاری ہے۔ مثلا یہ کہ آگ جلاتی ہے پانی پیاس بجھاتا ہے۔ غرض خواص اشیاء جو ایک مقررہ رنگ میں چلتے ہیں ، ان کا دریافت کرنا سائنس ہے۔ اب اگر آگ کسی اور خدا نے پیدا کی ہو ، درخت کسی اور خدا نے پہاڑ کسی اور نے تو یہ چیزیں آپس میں موافقت نہیں رکھیں گے بلکہ ایک دوسری سے ٹکراتی رہیں گی۔ لیکن جب یہ تسلیم کیا جائے کہ پر میشور ایک ہی ہے اور سب چیزیں اسی کے ماتحت ہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ سب کے لئے ایک ہی قانون جاری ہے۔ اور یہ بغیر ایک خدا کے ہو نہیں سکتا۔ اگر دنیا کی تمام اشیاء کے لئے ایک ہی ہستی قانون جاری کرنے والا نہیں تو پھر سائنس باطل ہے۔ اب پانی میں بجھانے اور آگ میں جلانے کی خاصیت ہے۔ اگر آگ پیدا کرنے والا خدا اور ہو اور اور پانی پیدا کرنے والا اور اور وہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیزوں کی خاصیتیں بدل دیں تو کیا کام چل سکتا ہے۔ مثلاً ایک خدا نے مگنیشیا اس لئے بنایا کہ جلاب لگائے اور دوسرے خدا نے معدہ ایسا بنایا کہ مگنیشیا کے اثر کو قبول کرلے۔