انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 571 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 571

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۷۱ توحید باری تعالی کے متعلق آنحضرت کی تعلیم دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ کسی قوم کا انسان ہو، وہ میرے ذریعہ ہدایت پا سکتا ہے، روحانی مدارج طے کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح آپ نے قومی خدا کا خیال مٹا دیا اور اس کی بجائے عالمگیر خدا پیش کیا جس سے اصل توحید قائم ہوئی۔ چنانچہ آپ کی بعثت کے بعد تمام دنیا کے ادیان میں پھر توحید کی طرف رغبت پیدا ہو گئی اور پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔ یہ تو مذہبی نقطہ نگاہ تھا ان دو اصول کے ساتھ رسول کریم میں ہم نے توحید کے مسئلہ کو مضبوط کیا۔ یوں کہنے سے کہ خدا ایک ہے لوگ نہ مان سکتے تھے جب تک ان کے دماغ میں ایسے احساسات نہ پیدا پیدا کئے جاتے کہ خدا تعالیٰ سب کا ہے اور سب کے لئے اس کی رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ رسول کریم میں ہم نے یہ بھی احساس پیدا کئے یہ تو مذہبی نقطۂ نگاہ تھا۔ ایک ! دنیوی نقطہ نگاہ سے بھی رسول کریم مسیہ نے اس مسئلہ کو پیش فرمایا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ کمپیریٹو ریلیجن (COMPARATIVE RELIGION) (یہ ایک نیا علم نکلا ہے کہ سب مذاہب کے اصول کو جمع کر دیا جاتا ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ مذاہب میں کتنی باتیں مشترک ہیں۔ مثلاً یہ کہا جاتا ہے کہ سب مذاہب میں خدا کا خیال مشترک ہے) والوں نے یہ خیال پیش کیا ہے کہ مذہب میں بھی اسی طرح ارتقا ہوتا چلا آیا ہے جس طرح دنیا میں۔ وہ کہتے ہیں ہر چیز میں آہستہ آہستہ ترقی ہوتی ہے۔ مذہب نے بھی آہستہ آہستہ ترقی کی ہے۔ جسے وہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پہلے انسان خدا کو نہ مانتے تھے بلکہ عناصر کی پرستش کرتے تھے اور عناصر کو خدا کا ظل قرار دیتے تھے۔ جب انسانوں نے ترقی کی تو عناصر کی بجائے ارواح کو خدا کا ظل ماننے لگے اور اس طرح ترقی کرتے کرتے ایک خدا کے خیال پر قائم ہوئے۔ اسی لئے وہ کہتے ہیں خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو نہیں منوایا بلکہ منوایا بلکہ دنیا نے آہستہ آہستہ خدا کا ا کا کھوج نکال لیا۔ یہ ان میں سے ان لوگوں کا قول ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی کے قائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں جس طرح مٹی کا تیل انسانوں نے کوشش کرتے کرتے نکال لیا وہ خود بخود نہ نکلا تھا۔ اسی طرح خدا تو موجود تھا مگر کسی کو معلوم نہ تھا۔ آخر ترقی کرتے کرتے اس کا پتہ لگا لیا گیا وہ خود ظاہر نہ ہوا۔ لیکن جو خدا تعالی کے قائل ہی نہیں وہ کہتے ہیں خدا کوئی نہیں۔ دنیا نے اپنی عقل سے ایک نقشہ تجویز کر لیا ہے جسے خدا کہا جاتا ہے۔ اس خیال کے لوگ یہ نہیں مانتے کہ کسی انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہو سکتا ہے۔ ان کے نقطۂ نگاہ سے بھی دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم