انوارالعلوم (جلد 10) — Page 569
۵۶۹ تکالیف کے بھنور میں پڑ کر ڈوبتی ہوئی دنیا کو ترا لیا- اسی طرح ہم دیکھتے ہیں یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی ایسے انسان پیدا ہوئے جن کی زندگیاں خلق خدا کی خدمت کے لئے وقف تھیں- دنیا کی اور اقوام میں بھی یہی بات نظر آتی ہے کہ جب جب ان کی دینی اور روحانی حالت خراب ہوئی- خدا کی طرف سے ان میں ایسے انسان پیدا کئے گئے جنہوں نے ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا- پس جب سب اقوام میں ایک ہی قسم کے فساد کے وقت ایک ہی قوم کا علاج کیا گیا تو کیوں نہ مانا جائے کہ ایک ہی ہستی کی طرف سے یہ سارے انسان بھیجے گئے تھے اور جب یہ خیال کیا جائے تو کسی انسان کے ذہن میں قومی خدا کا تصور نہیں پیدا ہوتا- بلکہ رب العلمین کا نقشہ سامنے آ جاتا ہے- یہ سمجھنا کہ خدا کا ہماری قوم کے ساتھ ہی تعلق رہا ہے کسی اور کے ساتھ نہیں رہا- ہم میں جب خرابی پیدا ہوئی، اس وقت اس نے اپنا کوئی پیارا بھیج دیا- مگر کسی اور قوم میں نہ بھیجا اس سے ایک قومی خدا کا تصور ذہن میں آتا ہے- یہی وجہ ہے کہ مختلف اقوام اپنا اپنا خدا الگ سمجھتی اور کہتی ہیں ہمارا خدا ایسا ہے اور فلاں قوم کا خدا ایسا- حتیٰ کہ یہاں تک بھی لکھ دیا گیا کہ ہمارے خدا نے فلاں قوم کے خدا پر فتح پائی- گویا اپنے جیتنے کو انہوں نے اپنے خدا کا دوسروں کے خدا پر جیتنا قرار دیا- اس کی وجہ یہی ہے انہوں نے سمجھا نہیں کہ ہر قوم میں مصلح آتے رہے ہیں اور ہر قوم کی ہدایت کے سامان خدا تعالیٰ کرتا رہا ہے- اس بات کے نہ سمجھنے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی توحید کے خلاف سخت جھگڑا کرتے رہے ہیں- لیکن اگر یہ سمجھ لیں کہ ہر قوم میں نبی اور مصلح آتے رہے ہیں- تو ان میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ سب کا ایک ہی خدا ہے گو اس کے نام مختلف رکھ لئے گئے ہیں- اب تو ناموں کی وجہ سے بھی الگ الگ خدا سمجھے جاتے ہیں- بچپن کا ایک واقعہ ابھی تک مجھے یاد ہے ایک لڑکے نے مجھ سے باتیں کرتے کرتے کہا ہندوؤں کا خدا کیسا خدا ہے- میں نے کہا جو ہمارا خدا ہے وہی ان کا خدا ہے- کہنے لگا یہ کس طرح ہو سکتا ہے ان کا خدا تو پرمیشور ہے- میں نے کہا خدا تو وہی ہے، ہندوؤں نے نام اور رکھا ہوا ہے- یہ سن کر وہ بڑا حیران ہوا- دراصل بات وہی ہے جو مثنوی والے نے لکھی ہے- انہوں نے لکھا ہے چار فقیر تھے جو مانگتے پھرتے تھے- کسی نے انہیں ایک سکہ دے کر کہا جاؤ جو چیز کھانے کو جی چاہے جا کر خرید لو- ایک نے کہا ہم انگور لیں گے دوسرے نے کہا انگور نہیں عنب لیں گے- تیسرے نے کہا داکھ لیں گے- چوتھے نے ترکی زبان کا ایک لفظ استعمال کیا کہ وہ لیں گے- اس پر ان کا جھگڑا ہو گیا-