انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 560

انوار العلوم جلد 10 ۵۶۰ رسول کریم ملی ایک نبی کی حیثیت میں سے سب کچھ برداشت کیا۔ مگر دنیا کی گمراہی کو برداشت نہ کیا۔ آخر ایک ایک کر کے لوگوں کے دلوں پر فتح پانی شروع کی۔ سالہا سال تک یہ مقابلہ جاری رہا بڑے بڑے قوی دل دل ہار گئے مگر آپ نے دل نہ ہارا جس طرح پانی پہاڑوں کی چوٹیوں پر اڑوں کی چوٹیوں پر سے بہتے بہتے نرمی سے ملائمت سے اپنا راستہ نکال لیتا ہے اور آخر ایسی نشیب والی جگہیں پیدا کر لیتا ہے ۔ جن پر سے وہ آسمانی کے ساتھ بہہ سکے۔ اسی طرح آپ نے اپنے نیک نمونہ سے اور موثر وعظ سے دنیا کی اصلاح کا کام جاری رکھا یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ پاکیزگی اور طہارت کی خوبی کے دل قائل ہو گئے۔ روحانی مردوں نے اپنے اندر ایک نئی روح سوئے ہوؤں نے تمازت آفتاب، بیماروں نے صحت کے آثار اور کمزوروں نے ایک طاقت کی لہر اپنے اندر محسوس کرنی شروع کی دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔ جہاں ظلم اور تعدّی کی کی حکومت تھی وہاں وہاں : عدل اور انصاف کا دور دورہ ہو و گیا۔ جہاں جہالت کے بادل چھا رہے تھے وہاں علم کا سورج چمکنے لگا۔ جہاں برودت اور جمود جمے بیٹھے تھے وہاں امن اور سعی کی گرم بازاری ہو گئی۔ نسل انسانی نے سانس لیا کروٹ بدلی اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ اُس معجزانہ تغیر پر نظر ڈالی جو محمد رسول الله علی ایم کی بے نفس جد و جہد نے پیدا کر دیا تھا۔ اور بے اختیار ہو کر چلا اٹھی کہ بے شک تو نبی ہے بلکہ نبیوں کا سردار ۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَأَخِرُدَ بد - وَأخِرُدَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۳۱ مئی ۱۹۲۹ء) الكهف : ١١٠ البقرة : ١٣٠