انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 559

۵۵۹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کی حیثیت میں بھی میرا خصوصاً اور دنیا کا عموماً نفع ہے اور یہ بشاشت اس کے اندر ایک ایسی خوشگوار تبدیلی پیدا کر دیتی ہے کہ شریعت پر عمل کرنا اسے ناگوار نہیں گزرتا بلکہ وہ اس پر عمل کرنے کو ایک ضروری فرض سمجھتا ہے اور اسے ایک چٹی نہیں خیال کرتا بلکہ ایک عظیم الشان رحمت خیال کرتا ہے- نبی کا چوتھا کام، تزکیہ نفس چوتھا کام ایک نبی کا تزکیہ نفس ہے یعنی لوگوں کے دلوں کو پاک کر کے ان کے اندر ایسی قابلیت پیدا کرنا کہ وہ خدا تعالیٰ سے اتصال تام حاصل کر سکیں اور اس کے فیوض کو اپنے نفس میں جذب کر کے بقیہ دنیا کے لئے اس کے مظہر اور اس کی قدرتوں کی جلوہ گاہ بن سکیں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام کو اس احسن طریق پر پورا کیا ہے کہ دوست تو دوست آپ کے دشمن بھی اس کام کے قائل ہیں جس ملک میں آپ پیدا ہوئے اور جس قوم کے آپ ایک فرد تھے، اس کی جو حالت تھی وہ دنیا سے پوشیدہ نہیں خود اس زمانہ کی عام حالت بھی اچھی نہ تھی عرب جو آپ کا ملک تھا اس کے سوا دوسرے ممالک بھی مذہبی، اخلاقی، علمی اور عملی حالت میں اچھے نہ تھے گویا ایک رات تھی جو سب دنیا پر چھائی ہوئی تھی- اول تو پہلے مذاہب کی پاک تعلیموں کو ہی لوگوں نے بگاڑ دیا تھا دوم جو کچھ پہلی تعلیموں میں سے موجود تھا اس پر بھی عمل نہ تھا- مذہب تو ایک بالا چیز ہے معمولی انسانیت بھی مردہ ہو چکی تھی اور شرافت مفقود ہو رہی تھی شرکت و بدعت اور گندیرسوم ایک دوسرے کا حق مارنا، فسق و فجور ظلم، قتل و غارت، بے شرمی اور بے حیائی، جہالت، سستی، نکما پن، تفرقہ، شراب خوری، جوئے بازی، کبر، خود پسندی، غرض ہر اک عیب اس وقت موجود تھا اور اس کے مقابل کی ہر ایک نیکی مفقود تھی یہاں تک کہ بدی کا احساس بھی مٹ گیا تھا اور اس کے ارتکاب پر بجائے شرمندگی محسوس کرنے کے فخر کیا جاتا تھا- اس زمانہ میں پیدا ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قوم کو اپنی تربیت کے لئے چنا جو اس تاریک زمانہ میں بھی سب قوموں سے گناہ اور بدی میں بڑھی ہوئی تھی- نظام حکومت اس کے اندر اس قدر مفقود تھا کہ اسے سب سے زیادہ فخر اپنی لا مرکزیت پر تھا- اس قوم کے اندر اپنی پاکیزی کی روح آپ نے پھونکنی شروع کی- جیسا کہ قاعدہ ہے جس چیز کو جی نہ چاہے انسان اس کا مقابلہ کرتا ہے لوگوں نے آپ کا مقابلہ شروع کیا اور سخت ہی مقابلہ کیا مگر آپ استقلال اور صبر سے اپنا کام کرتے چلے گئے اور لوگوں کی مخالفت کی کچھ بھی پرواہ نہ کی ماریں کھائیں گالیاں سنیں، طعنے