انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 558 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 558

۵۵۸ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کی حیثیت میں شریعت کے دو اہم امور تیسرا اصل کتاب کی تعلیم میں آپ نے یہ مدنظر رکھا کہ شریعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ دو اہم ضرورتوں کو پورا کرے ایک طرف تو اس میں ان تمام ضروری امور کے متعلق ہدایت ہو جن کا مذہبی روحانی اور اخلاقی ترقی کے ساتھ تعلق ہے اور دوسری طرف انسان کی ذہنی ترقی کے لئے اس میں گنجائش ہو اور وہ انسانی دماغ کو بالکل جامد بنا کر اس میں سڑاندھ نہ پیدا کر دے- ان دو اصول کے ماتحت آپ نے ان دو خطرناک راستوں کو بند کر دیا جو حقیقی روحانیت کو تباہ کرنے کا باعث بن جایا کرتے ہیں یعنی اباحت کے راستہ کو بھی جو انسان کے روحانی مفاد کو مادی لذات کی قربان گاہ پر قربان کروا دیا کرتا ہے اور تقلید جامد کے راستہ کو بھی جو انسانی دماغ کو ایک سڑے ہوئے تالاب کی طرف بنا کر ان بدبوؤں کا مرکز بنا دیتا ہے جو نشوونما کی تمام قابلیتوں کو جلا کر رکھ دیتی ہیں- نبی کا تیسرا کام، تعلیم حکمت تیسرا کام نبی کا تعلیم حکمت ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام میں بھی ایک بے نظیر مثال قائم کی ہے آپ ہی وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے باوجود خدا تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کے بے نظیر اظہار کے اس امر پر بھی زور دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قادر ہونے کے یہ معنی نہیں کہ وہ جو چاہے حکم دے اور کسی کو اس کی وجہ دریافت کرنے کی مجال نہ ہو وہ اگر قادر ہے تو غنی بھی ہے کسی حکم میں خود اس کا اپنا فائدہ مدنظر نہیں ہوتا اور پھر وہ حکیم بھی ہے وہ کوئی حکم نہیں دیتا جس میں کہ کوئی حکمت نہ ہو پس کسی تعلیم کے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے کے یہ معنی نہیں کہ اس کی جزئیات تمام حکمتوں سے اور اس کے احکام تمام علتوں سے خالی ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف کسی بات کا منسوب ہونا ہی اس امر کا ضامن ہے کہ وہ بات ضرور حکمتوں سے پر اور مقاصد عالیہ سے وابستہ ہے ورنہ وہ حکیم اور غنی ہستی اس کا حکم کیوں دیتی- اس اصل کے ماتحت آپ نے اپنی تمام تعلیم کی حکمتیں ساتھ ساتھ بیان فرمائی ہیں ہر اک بات جس کا حکم دیا ہے اس کے ساتھ بتایا ہے کہ اس کے کرنے کے کیا فوائد ہیں اور اس کے نہ کرنے کے کیا نقصانات ہیں اور ہر اک بات جس سے روکا ہے اس کے ساتھ ہی یہ بتایا ہے کہ اس کے کرنے سے کیا نقصانات ہیں اور اس کے نہ کرنے میں کیا فوائد ہیں- پس آپ کی تعلیم پر عمل کرنے والا اپنے دل میں انقباض نہیں محسوس کرتا بلکہ ایک جوش اور خوشی محسوس کرتا ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ مجھے جو حکم دیا گیا ہے اس میں بھی میرا خصوصاً اور دنیا کا عموماً فائدہ ہے اور جس امر سے مجھے روکا گیا ہے اس میں