انوارالعلوم (جلد 10) — Page 557
۵۵۷ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نبی کی حیثیت میں آخر کار اپنے مقصد کو پا جائے اور کوئی پہلے اور کوئی پیچھے آخر اس وجود سے پیوست ہو جائے جس وجود کی رحمت اسے عالم وجود میں لائی تھی- غرض ہر اک مخفی مسئلہ کو جس پر ایمان کی بنیاد تھی وہم اور شک کے بادلوں سے نکال کر ایک چمکتے ہوئے سورج کی روشنی کے نیچے آپ نے رکھ دیا تا کہ ہر شخص اپنی عقل کی آنکھ سے اسے دیکھ سکے اور اپنے روحانی ادراک سے اسے چھو سکے اور وہم اور وسوسہ سے نکل کر یقین اور اطمینان حاصل کر سکے- نبی کا دوسرا کام تعلیم کتاب دوسرا کام نبی کا تعلیم کتاب ہے اس کام کو بھی آپ نے ایسے رنگ میں پورا کیا ہے کہ کسی اور وجود میں اس کی مثال نہیں ملتی- آپ نے سب سے اول تو یہ بتایا کہ شریعت ایک فضل ہے انسان اپنی دنیوی اوراخروی زندگی کی بہتری کیلئے اس امر کا محتاج ہے کہ خدا تعالیٰ خود اس پر اپنی مرضی کا اظہار کرے تا کہ اس روحانی سفر میں جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اس کے کاموں کی بنیاد شک اور وہم پر نہ ہو بلکہ یقین اور وثوق پر ہو شریعت ایک بوجھ نہیں جو آگے ہی بوجھ سے دبے ہوئے انسان کو کچلنے کے لئے اس کے سر پر رکھ دیا گیا ہے وہ کسی سزا کا نتیجہ نہیں بلکہ محبت کے تقاضے کے ماتحت اس کا نزول ہوا ہے اور ان مخفی گڑھوں اور یکدم چکر کھا جانے والے موڑوں اور سر بلند اور سیدھی پہاڑیوں اور تیز اور سرعت سے بہنے والی ندیوں اور حد سے جھکی ہوئی شاخوں اور کانٹے دار جھاڑیوں اور گندگی اور میلے کے ڈھیروں سے مطلع کرنے کے لئے اتاری گئی ہے جو اس لمبے سفر میں انسان کے لئے تکلیف کا موجب اور اسے اس کے سفر کو بارام طے کرنے سے محروم کر دینے کا باعث ہو سکتی ہیں وہ نہ سزا ہے نہ امتحان بلکہ رہنما ہے اور ہادی- اس کا کوئی حکم خدا تعالیٰ کی شان کو بڑھانے والا نہیں بلکہ ہر اک حکم انسان کی اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہے- عالمگیر شریعت آپ نے دنیا کے سامنے یہ ایک نیا طریق پیش کیا کہ شریعت عالمگیر ہونی چاہئے اور اس میں مختلف طبائع اور مختلف طاقتوں کا لحاظ رکھا جانا چاہئے جو کتاب کہ مختلف طبائع اور مختلف طاقتوں کا لحاظ نہیں کرتی وہ گویا دنیا کے ایک حصہ کو نجات پانے سے بالکل محروم کر دیتی ہے اور اس طرح خود اس غرض کو معدوم کر دیتی ہے جس کے لئے اسے دنیا میں بھیجا گیا تھا-