انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 543 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 543

۵۴۳ ہو اس کے لئے نہایت سنجیدہ مزاج اور خاموش رہنے والا ہونا ضروری ہے مسکراہٹ اس کے درجہ کو گرانی ہے اور ہنسی اس کے تقویٰ کو برباد کر دیتی ہے لیکن انسانیت پر غور کرنے والا انسان جانتا ہے کہ ہنسی اور خوش طبعی کو انسانی تمدن سے خارج کر کے وہ ایک ایسا ڈھانچہ رہ جاتا ہے جو تمام خوشنمائیوں سے معرا ہو- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باوجود اپنی تمام سنجیدگیوں کے اور عارضی خوشیوں سے بالا ہونے کے اور باوجود اپنے اس عظیم الشان دعویٰ کے جو ان کے درجہ کو معمولی انسان سے غیر محدود طور پر اونچا کر دیتا تھا اس طبعی جذبہ کو دبانے کی کبھی کوشش نہ کرتے تھے- آپ کے درجہ کی بلندی اور رفعت میں سے پھوٹ پھوٹ کر خوش طبعی کا انسانیجذبہ ایسے خوشنما طور پر نکل رہا تھا کہ دیکھنے والے کو حیرت ہوتی تھی وہ جو ایک تند اور سخت مزاج حاکم کو دیکھنے کی امید رکھتا تھا، ایک خوش مذاق اور مسکراتے ہوئے چہرہ کو دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا- مجلس اصحاب میں بیٹھے جہاں اعلیٰ تعلیمات کا درس دیا جاتا تھا لوگوں کی کوفت کو دور کرنے اور ملال کو کم کرنے کے لئے لطائف بھی بیان ہوتے چلے جاتے تھے کبھی اپنے اصحاب سے پاکیزہ ہنسی بھی ہوتی جاتی تھی- بچے آ جاتے تو ان کو بہلانے کے لئے کوئی چڑیا چڑے کا قصہ بھی بیان ہو جاتا تھا- کبھی بچہ کو خوش کرنے کے لئے اس کے منہ پر پانی کا باریک چھینٹا دیا جاتا تو اہل خانہ کی دلجوئی کے لئے عرب کی مروجہ کہانیوں میں سے کوئی کہانی بھی سنا دی جاتی تھی مگر ہاں ان سب امور کے ساتھ ساتھ یہ تعلیم بھی دی جاتی تھی کہ(۱)ہنسی اس رنگ میں نہ کرو کہ دوسرے کی تحقیر یا دلشکنی ہو (۲)ہنسی کو پیشہ یا عادت نہ بناؤ اور اس غرض سے ہنسی نہ کرو کہ لوگ ہنسیں بلکہ جس وقت طبیعت خود بخود اپنے آپ کو پرکیف رنگ میں ظاہر کرنا چاہے اسے ایسا کرنے دو (۳)ہنسی اور مذاق میں جھوٹ نہ ہو بلکہ صداقت کا پہلو محفوظ ہو،تا ادنیٰ طبعی جذبات کے ظہور کے وقت اعلیٰ طبعی جذبات کا خون نہ ہوتا چلا جائے- صفائی پسندی انسانی تقاضوں میں سے ایک تقاضا صفائی پسندی کا ہے جسم کو صاف رکھنا منہ کو صاف رکھنا- کپڑوں کو صاف رکھنا اور ایسی اشیاء کا استعمال کرنا جو ناک کی قوت کو صدمہ نہ پہنچانے والی ہوں بلکہ اس کے لئے موجب راحت ہوں- اس تقاضا کو بھی لوگوں نے غلطی سے تقویٰ اور نیکی کی اعلیٰ راہوں پر چلنے والوں کے طریق کے خلاف سمجھا ہے اور ایک ایسی راہ اختیار کر لی ہے کہ یا تو خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ طیب اشاء فضول جائیں یا خدا کے بندے جو ان طیب اشیاء کو استعمال کریں گنہگار ٹھہریں- رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بناوٹی نیکی