انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 542

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۴۲ رسول کریم مسلم ایک انسان کی حیثیت میں نبوت ایک ذہنی کیفیت ہے اور انسانی تقاضوں کا صحیح اور متناسب طور پر پورا کرنا اس کیفیت کا عملی ظہور ہے جس کے بغیر نمونہ کامل نہیں ہو سکتا۔ نبی ہماری فطرت کو بدلنے کیلئے نہیں آتا بلکہ فطرت کے تقاضوں کو صحیح اور متناسب طور پر پورا کرنے کیلئے ہمیں عملی سبق دینے کے لئے آتا ہے۔ پس فطرت کے تقاضوں کا کلی ترک اگر بعض دوسرے شخصوں کے لئے جائز بھی ہو سکتا ہے تو نبی کے لئے نہیں کیونکہ وہ نمونہ ہے امت کے لئے اور جس قدر تقاضوں کو وہ ترک کرتا ہے اس قدر وہ اپنے نمونہ کو نامکمل کر دیتا ہے۔ رسول کریم ملی ایم کو اس روشنی میں دیکھنے سے معلوم انسانوں کے لئے کامل نمونہ و نہ ہوتا ہے کہ آپ جس طرح کامل نبی تھے کامل انسان بھی تھے اور آپ کے اہم کاموں نے آپ کو انسانی جذبات سے غافل نہیں کر دیا تھا۔ بلکہ ان کے ساتھ ہی ساتھ آپ اُ۔ انسانی تقاضوں کو بھی ایسے رنگ میں پورا کر رہے تھے کہ تمام انسانوں کے لئے ایک کامل نمونہ قائم ہو رہا تھا۔ فطرت انسانی کے کمالات سے ناواقف لوگوں میں یہ عام خیال ہے کہ اچھا کھانا ایک اچھا کھانا حیوانی فعل ہے اور اعلیٰ روحانی مقامات کے منافی ہے لیکن وہ فطرت انسانی جسے، جسے خدا نے پیدا کیا ہے اس کے بالکل بر خلاف ہے۔ کھانوں کا انسانی اخلاق سے ایک گہرا تعلق ہے اور مختلف کھانے اپنے نباتی احساسات کو انسانی جسم میں جاکر اخلاقی میلانوں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ رسول کریم میم کو ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کھانے میں آپ کھانے میں میانہ روی کی تو بے شک تعلیم دیتے تھے لیکن عمدہ کھانے سے آپ نے کبھی نہیں روکا۔ بلکہ جب کبھی کسی نے عمدہ کھانا دعوت میں پیش کیا آپ نے اسے استعمال فرمایا ۔ ہاں یہ شرط لگا دی کہ کھانے کے متعلق ان امور کو مد نظر رکھو (1) ایسی طرح کھانے کی چیزوں کو ضائع نہ کرو کہ غرباء کو تکلیف ہو (۲) جس وقت ملک میں قحط ہو اور لوگ تکلیف میں ہوں غذا سادہ کردو تاکہ تمہارے بہت سے کھانوں میں غرباء کا ایک کھانا بھی ضائع نہ ہو جائے۔ (۳) سوائے حقیقی ضرورت کے کھانوں کا ذخیرہ جمع نہ کرو تا غرباء اپنے حصہ سے محروم نہ رہ جائیں۔ خوش طبعی انسانی تقاضوں میں سے ایک تقاضا خوش طبعی بھی ہے نہی انسان کے طبعی جذبات میں سے ہے۔ ایک اچھا انسان جو اپنے ہم جنسوں کیلئے وبال جان نہ بننا چاہتا ہو۔ اس کے لئے خوش مذاق ہونا بھی شرط ہے۔ لیکن دنیا کو یہ ایک وہم ہے کہ جو شخص خدا رسیدہ