انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 541

انوار العلوم جلد ۱۰ مضمون کی طرف آتا ہوں۔ ۵۴۱ رسول کریم می نام ایک انسان کی حیثیت میں مثال کے طور پر میں وفاداری کے جذبہ کو لیتا ہوں ہر شخص اسے پسند کرتا وفاداری کا جذبه ہے لیکن یہی جذبہ اگر بد صحبت کے متعلق استعمال ہو تو کیسا سخت مصر ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے۔ دو شخص ایک مجرم میں شریک ہوتے ہیں ایک کی ضمیر ایک وقت میں اسے ملامت کرنے لگتی ہے لیکن اس کی وفاداری کی روح جو موازنہ نیک و بد کی طاقت سے بڑھی ہوئی تھی، اس کی اندرونی آواز کو خاموش کرا دیتی ہے اور اس کے کان میں کہہ دیتی ہے کہ بے وفا نہیں ہونا چاہئے جو کچھ ہونا تھا ہو چکا اب مجھے اپنے دوست کا ساتھ دینا چاہئے۔ یا مثلاً اولاد کی محبت ایک اچھا جذبہ ہے اور بقائے عالم کے زبردست اولاد کی محبت کا جذبہ اسباب میں سے ہے لیکن اگر کسی شخص کے اندر یہی جذبہ ترقی کر جائے اور باقی جذبات کو دبادے تو یہی ایک گناہ بن جاتا ہے اور اولاد کو بھی گناہ کا عادی بنا دیتا ہے۔ غرض کسی ایک یا بعض خواص فطرت انسانی کا کمال حقیقی کمال نہیں ہو تا بلکہ بالکل ممکن ہے کہ بعض حالتوں میں وہ ایک خطرناک نقص کی صورت بن جائے۔ اور نہ ایسا کمال بنی نوع انسان کے لئے نمونہ بن سکتا ہے کیونکہ نمونہ رہی بن سکتا ہے جو طبعی ترقی کا مظہر ہو۔ غیر طبعی ترقی دوسرے کے لئے نمونہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس کا حاصل کرنا دوسروں کے لئے نا ممکن ہوتا ہے اور نمونہ کے لئے شرط ہے کہ اس کی نقل کرنا ہماری طاقت میں ہو۔ اس تمہید کے بعد میں اصل مضمون کی طرف آتا رسول کریم کا رتبہ بحیثیت انسان ہوں اس امر کے متعلق اپنی تحقیق کو پیش کرتا ہوں کہ رسول کریم میں ہم بحیثیت انسان کے کیا رتبہ رکھتے تھے۔ جو کچھ میں اوپر لکھ آیا ہوں اس سے یہ ثابت ہوتا انسانی تقاضے نبوت کے منافی نہیں ہے کہ (1) (1) نبوت کمالات انسانیہ کے صحیح ظہور کا نمونہ پیش کرنے کیلئے آتی ہے۔ (۲) پس کامل نبی کے لئے کامل انسان ہونا ضروری ہے۔ (۳) اگر کوئی شخص بعض خواص انسانی کو ان کی انتہائی صورت میں دکھاتا ہے تو یہ اس کے کامل انسان ہونے کی علامت نہیں بلکہ بسا اوقات یہ امر اس کے نظام عصبی کی ظاہر یا مخفی خرابی کی علامت ہو سکتا ہے ان امور کو سمجھ لینے کے بعد یہ امر بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جو لوگ انسانی تقاضوں کے پورا کرنے کو نبوت کے منافی سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ