انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 540

انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۴۰ رسول کریم میں ایک انسان کی حیثیت میں پر ابھارے۔ پس کامل نبی کا کامل انسان ہونا ضروری ہے جب تک انسانیت کے تمام لطیف خواص کسی انسان میں صحیح طور پر نشو و نما نہ پائیں وہ نبی نہیں ہو سکتا اور جب تک وہ خواص اپنے اپنے دائرہ میں کمال کو نہ پہنچ جائیں وہ شخص نبی نہیں کہلا سکتا۔ یہ بات تجربہ سے ثابت ہے کہ بعض لوگ کسی خاص بات خاص دائرہ میں خاص قابلیت میں غیر معمولی قابلیت رکھتے ہیں اور دنیا ان کی لیاقت کو دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے لیکن آخر کار وہ پاگل اور مجنون ہو کر مرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی خاص دائرہ میں قابلیت کا ظہور انسانی کمال پر دلالت نہیں کرتا بلکہ صرف بعض خواص انسانی کے ایک محدود دائرہ میں حد سے زیادہ ترقی کر جانے پر دلالت کرتا ہے۔ یہ امر بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص جس کے اندر عشق کا مادہ ایسا غالب آگیا ہو کہ و کہ دوسرے تمام جذبات پر وہ غالب ہو گیا ہو ، بجائے کسی انسان پر عاشق ہونے کے خدا تعالیٰ ہی کی محبت کی طرف متوجہ ہو جائے اور دنیاؤ دنیا وَ مَا فِيهَا کو بُھلا دے ۔ مگر ایسا شخص کبھی بھی ان کمالات روحانیہ کو حاصل نہ کر سکے گا جو دوسرے لوگ حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ اس کا جذبہ محبت بگڑی ہوئی نفسی حالت کا نتیجہ ہے تندرست اور صحیح نشود نما کا نتیجہ نہیں ہے۔ اس شخص کی حالت بالکل اس بیج کی سی ہو گی جو نہایت طاقتور زمین میں بویا جاتا ہے اور اس قدر جلد نشود نما پا کر بڑا ہو جاتا ہے کہ اس کی بالیں دانوں سے محروم رہ جاتی ہیں وہ بھوسہ تو بہت کچھ کچھ دے دیتا ہے مگر دانہ اس سے بہت کم نکلتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں جو شخص تمام انسانی کمالات کو ظاہر کرنے والا ہو گا اس کی نشوو نما تمام خواص فطرت پر مشتمل ہوگی اور ان کے اندر ایک خاص تناسب ہو گا۔ ہر ایک خاصہ فطرت اس نسبت سے ترقی کرے گا جس نسبت سے کہ اسے ترقی کرنی چاہئے۔ مثلاً سزا دینے کی طاقت بھی اس کی نشو و نما پائے گی اور رحم کی بھی اور عفو کی بھی اور برداشت کی بھی اور موازنہ کی بھی کہ یہ پانچوں جذبات جرائم کے متعلق فیصلہ کرتے وقت ضروری ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جذبہ بھی اپنی حد مناسب سے کم ہو جائے تو انسانیت ناقص ہو جائے گی اور کمالات انسانیہ کا ظہور نا ممکن رہ جائے گا۔ چونکہ یہ ایک علمی مسئلہ ہے اور علم النفس کے باریک مطالعہ کے بغیر اس کا سمجھ میں آنا بغیر تفصیل کے مشکل ہے اور وہ چند کالم جن میں میں نے اس مضمون کو ختم کرنا ہے اس کے لئے کافی نہیں۔ اس لئے میں ایک دو مثالوں کے ذریعہ سے اس امر پر روشنی ڈال کر اصل