انوارالعلوم (جلد 10) — Page 535
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۳۵ لا يسمہ الا المطهرون کی تفسیر ہیں ہم اس درجہ کو حاصل نہیں کر سکتے۔ جیسے تندرستی اور صحت کے مدارج ہوتے ہیں، اس طرح روحانیت کے بھی مدارج ہوتے ہیں۔ اور ہر درجہ کے ساتھ معارف تعلق رکھتے ہیں۔ جتنا جتنا کوئی درجہ پاتا جاتا ہے اتنے ہی زیادہ اعلیٰ معارف سمجھنے کی اس میں قابلیت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ اگر باوجود کسی کی کوشش اور سعی کے اس میں کمزوری رہ جائے تو اس کی مثال ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک سپاہی اپنی طرف سے پوری ہمت اور بہادری سے لڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر وہ جرنیل کی طرح کام نہیں کر سکتا تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے ملک کی خدمت نہیں کی۔ اس نے ضرور کی ہے مگر اپنی ہمت اور طاقت کے مطابق۔ پس اگر کسی میں تقویٰ و طہارت حاصل کرنے کی خواہش اور تڑپ رکھنے کے اور کوشش کرنے کے باوجود کوئی کمزوری رہ جاتی ہے تو خدا تعالیٰ اس کی کوشش کو ضائع نہیں کرتا بلکہ اسے بھی اس کا بدلہ دیتا ہے تاکہ اس کا حوصلہ بڑھے اور وہ اور زیادہ کوشش کرے۔ پس کسی کو ہمت نہیں ہارنی چاہئے ، کوشش کرنی چاہئے کہ طہارت اور کوشش کرے۔ خدا تعالی نے أُولَئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ میں یہی بتایا ہے۔ کہ جب انسان میں اخلاص پیدا ہوتا ہے تو اسے سواری ملتی ہے جو اسے آگے لے جاتی ہے۔ اسی طرح اسے اور ترقی ملتی ہے۔ پھر وہ سواری اور آگے لے جاتی ہے۔ ل الواقعة : ٨٠ البقرة : تفسیر روح المعانی جلده صفحه ۲۰۹ مطبوعہ استنبول ۱۹۲۶ء پینک: افیون یا پوست کے نشہ کی اونگھ الفضل ۵ فروری ۱۹۲۹ء)