انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 533

انوار العلوم چند ۱۰ ۵۳۳ لا يسمد الا المطهرون کی تغیر مقابلہ میں اسلام کی فتح انہی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ خواہ کوئی ظاہری علوم میں کتنا بڑھ جائے جب تک تقویٰ و طہارت حاصل حاص نہ کرے گا علوم قرآنیہ میں بچہ ہی ہو گا۔ وہی ان علوم کا ماہر ہو گا خواہ وہ دینوی علوم نہ رکھتا ہو جو روحانی پاکیزگی رکھتا ہو گا۔ اس رکھتا ہو گا۔ اس پر ایسے علوم کھولے جائیں گے کہ دنیا دنگ رہ جائے گی۔ پس قرآن کریم سچائی کا یہ معیار بتاتا ہے کہ جو خدا خدائی کتاب : اب ہو ۔ اس کے علوم روحانیت کے اعلیٰ مدارج حاصل کرنے سے حاصل ہو سکتے ہیں ۔ ہم اس صداقت کو آج بھی پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ میں ہی ہوں میں نے ہائی سکول میں پڑھا مگر کسی جماعت میں پاس نہ ہوا۔ حساب سے مجھے مس ہی نہ تھا۔ عربی میں قرآن کریم کا خالی ترجمہ حضرت خلیفہ اول نے پڑھایا اور باوجود اس کے کہ مجھے بہت کم عربی آتی تھی ، آدھا پونا پارہ روزانہ پڑھا دیتے اور فرماتے ایک دفعہ قرآن میں سے گزر جاؤ ۔ اسی طرح بخاری میں سے انہوں نے گزار دیا۔ اگر میں کوئی سوال کرتا تو فرماتے میاں یہ باتیں خود خدا سکھائے گا۔ اسی طرح میرے سوال کو ٹال دیتے۔ کبھی خود کچھ بتانا چاہتے تو بتا دیتے، میرے سوال پر کچھ نہ بتاتے۔ اس طرح پڑھا کر فرمانے لگے مجھے جو کچھ آتا تھا میں نے تمہیں سکھا دیا ہے اس وقت تو میں نہ سمجھ سکا کہ کس طرح وہ سب کچھ سکھا دیا ہے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اس فقرہ میں انہوں نے سب کچھ سکھایا کہ خدا خود سکھاتا ہے۔ اگر دل پاکیزہ ہو ، خدا تعالیٰ سے تعلق ہو تو خدا تعالیٰ قرآن کریم کے علوم خود سکھاتا ہے۔ چنانچہ ایک وہ وقت بھی آیا کہ جب حج کے لئے جانے لگا تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا میں نے کبھی پہلے یہ بات ظاہر نہ کی تھی تاکہ تمہاری ترقی میں روک نہ ہو۔ اب ظاہر کرتا ہوں کہ یوں تو میں نے تمہیں قرآن پڑھایا لیکن کئی معارف قرآنیہ تم سے سنے اور یا دکھے۔ اور اس طرح تم سے قرآن پڑھا۔ اب چونکہ تم جا رہے ہو ۔ اس لئے سنا دیا ہے کہ شاید پھر ملاقات ہو یا نہ ہو۔ تو میرا دعوئی ہے کہ دنیا کا کوئی شخص اٹھے جو یہ کہے کہ میں قرآن کے معارف اور حقائق بیان کرنے میں مقابلہ کرنا چاہتا ہوں تو میں اس سے مقابلہ کے لئے تیار ہوں۔ وہ خود تسلیم کرے یا نہ کرے، دنیا اور حقا حقائق پسند پسند دنیا تسلیم کرے گی کہ جو حقائق اور اور معارف میں نے بیان کئے ہوں گے وہ بہت بڑھ کر ہوں گے۔ تو قرآن کا علم محض خدا تعالیٰ کے فضل سے حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ قرآن کریم کی بہت بڑی صداقت کا ثبوت ہے کیونکہ جس کتاب کا علم خدا کے فضل سے حاصل ہو، وہی خدا کی