انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 519 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 519

اتوا را العلوم جلد ۱۰ ۵۱۹ فضائل القرآن (1) ت ایک جگہ سارے قرآن کو محکم اور دوسری جگہ سارے قرآن کو متشابہ کیوں کہا گیا ہے۔ تو اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں قرآن کریم کی اصطلاح میں محکم تعلیم وہی ہے جس میں قرآن کریم نے تجدید کی ہے۔ اور جس امر میں وہ پہلی کتب سے ملتا ہے وہ متشابہ ہے۔ لیکن ایک لحاظ سے سارا ہی قرآن محکم ہے۔ کیونکہ اصولاً کسی تعلیم کو دیکھتے ہوئے اس کے کسی ایک ٹکڑے کو نہیں بلکہ مجموعہ کو دیکھتے ہیں۔ اور احکام کی مختلف اجناس کو بحیثیت مجموعی دیکھا جائے تو اسلامی تعلیم بالکل جدا ہے۔ کسی حصہ تعلیم میں بھی اس نے اصلاح کو ترک نہیں کیا۔ اور وہ پہلی کتب کے بالکل مشابہ نہیں ہے ، اس لئے وہ سب محکم ہے۔ لیکن اسی طرح چونکہ سب اصول شریعت کا پہلی کتب میں پہلے لوگوں کے درجہ کے مطابق نازل ہونا بھی ضروری تھا تا کہ پہلے زمانہ کے لوگ بھی اپنے اپنے دائرہ میں تکمیل حاصل کریں اس لئے ہر قسم کے احکام جو قرآن کریم میں ہیں کسی نہ کسی صورت میں پہلی کتب میں بھی موجود ہیں اس لحاظ قرآن کریم سب ب کا کا سب سب ملته متشابہ ہے۔ نماز بھی بھی : پہلے مذاہب میں ہے۔ روزہ بھی ہے۔ حج بھی ہے، زکوۃ بھی ہے اور اس تشابہ کو دیکھ کر بعض لوگ دھوکے میں پڑ جاتے ہیں ! ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ قرآن کریم کے نزول کا پھر کیا فائدہ ہوا۔ عیسائیوں میں سے " ینابیع الاسلام" وغیرہ کتابوں کے مصنف اس گروہ میں شامل ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی دوسری کتب سے مشابہت ثابت کر کے قرآن کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم نے پہلے سے اس اعتراض کا ذکر کر کے اس کا نہایت واضح جواب دے دیا ہے۔ حق یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہ ایک زبر دست حقیقت بتائی ہے کہ ہر ایک آسمانی صحیفہ کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اندر کچھ محکم ہو اور کچھ مشابہ ۔ متشابہ اس لئے کہ جو صحیفہ پہلی تعلیمات سے بگلی جُدا ہو جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کے یہ معنی ہونگے کہ اس سے پہلے کوئی شخص خدا کا برگزیدہ ہوا ہی نہیں۔ اور خدا تعالیٰ نے کسی کو ہدایت دی ہی نہیں ، اور یہ باطل ہو گا۔ اور محکم اس لئے کہ اگر وہ کوئی جدید خوبی دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتا تو اس کی آمد کی ضرورت کیا ہے، پہلی تعلیم تو موجود ہی تھی۔ اور کون ہے جو اس اصل کی خوبی کا انکار کر سکے یا اس کی سچائی کو رد کر سکے۔ مفسرین نے محکم اور متشابہ کی تاویل میں بہت کچھ زور لگایا ہے۔ مگر اس حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے انہوں نے بہت کچھ دھوکا کھایا ہے۔