انوارالعلوم (جلد 10) — Page 518
۵۱۸ مقرر کیا ہے- پس قربانی کا حکم بھی متشابہ ہے- دراصل قرآن نے اس میں ان لوگوں کو جواب دیا ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ قرآن نے دوسری کتابوں سے چوری کر کے سب کچھ پیش کر دیا ہے- خدا تعالیٰ فرماتا ہے-ھوالذی انزل علیک الکتب منہ ایت محکمت ھن ام الکتب واخرمتشبھات کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کچھ تعلیمیں تو جدید ہیں اور کچھ تعلیمیں ایسی ہیں جو لازماً پچھلی تعلیموں سے ملنی چاہئیں- مثلاً پہلے نبیوں نے کہا سچ بولا کرو- کیا قرآن یہ کہتا ہے کہ سچ نہ بولا کرو- جھوٹ بولا کرو؟ غرض فرمایا قرآن میں بعض تعلیمیں ایسی ہیں جو پہلی تعلیموں سے ملتی ہیں- مگر آگے فرماتا ہے-فاما الذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغاء الفتنہ وابتغاء تاویلہ ۱۶؎بیوقوف لوگ جدید تعلیموں پر نظر نہیں ڈالتے اور پہلی تعلیموں سے ملتی جلتی تعلیموں کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ قرآن نے یہ نقل کی ہے- وہ محض فتنہ پیدا کرنے کی غرض سے اور اس کتاب کو اس کی حقیقت سے پھیر دینے کے لئے ایسا کرتے ہیں ومایعلم تاویلہ الا اللہ ۱۷؎حالانکہ ان کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی سمجھ سکتا ہے کہ کتنی تعلیم دوبارہ نازل کرنی ضروری ہے- انسان کے ہاتھ میں اس نے یہ کام نہیں رکھا- کیونکہ گو وہ تعلیم پہلے نازل ہو چکی ہوتی ہے مگر پھر بھی اس کی وہ مقدار جو آئندہ کے لئے ضروری ہوتی ہے- اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے- کوئی اور نہیں کر سکتا- اور یا پھر خدا تعالیٰ کے علم دینے کے بعد وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کی کتب کا حقیقی علم رکھنے والے ہیں سمجھ سکتے ہیں کہ کس حد تک اس تعلیم کو قائم رکھا جانا ضروری تھا اور کسی امر کو کیوں بدلا گیا؟ اس کی اور تشریحات صحیحہ بھی ہو سکتی ہیں- مگر ان میں محکم اور متشابہ کو معین نہیں کیا جا سکتا- ایک ہی آیت ایک وقت میں محکم اور ایک وقت میں متشابہ ہو جاتی ہے- یعنی جو آیت کسی کی سمجھ میں آ گئی وہ محکم ہو گئی اور جو نہ آئی متشابہ ہو گئی مگر پھر اختلاف ہو سکتا ہے- ہو سکتا ہے کہ ایک شخص ایک معنی کے لحاظ سے کسی آیت کو محکم قرار دے دے اور دوسرا اسے درست نہ سمجھتے ہوئے اسے متشابہ کہہ دے مگر ان معنوں میں محکم آیات بالکل ظاہر ہو جاتی ہیں- یعنی وہ تعلیمات قرآنیہ جو پہلی کتب سے زائد ہیں وہ سب محکم ہیں اور دوسری متشابہ- سارے قرآن کو محکم اور سارے قرآن کو متشابہ کیوں کہا گیا ہے باقی رہا یہ سوال کہ پھر