انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 516

انوار العلوم جلد 1 ۵۱۶ فضائل القرآن (1) کہ ہماری قراءت صحیح ہے اور اس پر جھگڑا پیدا ہو رہا ہے۔ اس لئے اس کا فیصلہ ہونا چاہئے۔ حضرت علی نے کہا آپ ہی فیصلہ کر دیں۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ مسلمان ہو کر اب سب ایک ہو گئے ہیں اس لئے ایک ہی قراءت ہونی چاہئے اور وہ قریش والی قراءت ہے۔ ہفتم ۔ اگر قراء توں میں اختلاف نہ تھا تو حضرت ابو بکر کے وقت کے قرآن جلائے کیوں گئے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی صریح طور پر غلط ہے ۔ وہاں تو یہ لکھا ہے کہ حضرت حفصہ الا کے پاس حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ کا قرآن تھا۔ وہ ان سے منگوایا گیا اور کہا گیا کہ نقل کرنے کے بعد واپس کر دیں۔ چنانچہ واپس کر دیا گیا۔ اور جلائے مختلف قراء توں والے قرآن گئے تھے تاکہ قراء توں کا اختلاف نہ رہے۔ ہشتم ۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ قرآن کی اصلیت پر صرف زید کی گواہی ہے، یہ بھی غلط ہے۔ حضرت ابو بکر نے زید کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو رکھا اور مسجد کے دروازہ پر بٹھا دیا۔ اور حکم دیا کہ کوئی تحریر ان کے پاس ایسی نہ لائی جائے جو رسول کریم میں کی لکھائی ہوئی نہ ہو اور جس کے ساتھ دو گواہ نہ ہوں جو یہ کہیں کہ ہمارے سامنے رسول کریم ملی ام نے یہ لکھوائی تھی۔ نہم۔ ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر اختلاف نہیں تھا تو حضرت عثمان کے وقت دوبارہ تحقیق کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قراء توں کی تحقیق کرائی گئی تھی عبارتوں اور سورتوں کی تحقیق نہیں کروائی گئی۔ و ہم ۔ اس طرح یہ جو کہا گیا ہے کہ اگر اختلاف نہ تھا تو ایک کے سوا باقی کاپیاں کیوں جلائی گئیں۔ اس کا بھی وہی جواب ہے کہ مختلف قراء توں والی کاپیاں جلائی گئی تھیں۔ پس یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان" کے خلیفہ ہونے کے وقت بہت قرآن تھے مگر ان کے بعد ایک رہ گیا۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ انہوں نے مختلف قراء توں کو اڑا دیا اور پھر جن قوموں کی قراتوں کو مٹایا گیا انہوں نے یہ اعتراض کیا۔ پس نتیجہ یہ نکلا کہ موجودہ قرآن وہی ہے جو رسول کریم ملی الم کے زمانہ میں تھا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اب میں متشابہات کے متعلق مختصر طور پر کچھ بیان کر دیتا ہوں۔ محکمات اور متشابہات اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن میں محکمات بھی ہیں اور متشابہات