انوارالعلوم (جلد 10) — Page 515
انوار العلوم جلد ۱۰ ۵۱۵ فضائل القرآن (1) کرنے کا حکم دیں۔ یہ نہیں کہا کہ آ۔ آپ اس کی کتابت کرالیں۔ پھر حضرت ابو بکڑ نے زید کو بلا کر کہا کہ قرآن جمع کرو۔ چنانچہ فرمایا اِجْمَعُهُ اسے ایک جگہ جمع کر دو۔ یہ نہیں کہا کہ اسے لکھ لو۔ غرض الفاظ خود بتا رہے ہیں کہ اس وقت قرآن کے اوراق کو ایک جلد میں اکٹھا کرنے کا سوال تھا۔ لکھنے کا سوال نہ تھا۔ چهارم۔ یہ اعتراض تھا کہ قرآن کریم میں بعض لوگوں کے متعلق الَّذِينَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِينَ آیا ہے۔ سو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فروں پر ویسا ہی عذاب نازل کرے گا۔ جیسا ان لوگوں پر کیا جو قرآن کے بعض حصوں پر عمل کرتے ہیں اور بعض پر نہیں کرتے۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں کافروں اور منافقوں کا ذکر ہے۔ اور اگر یہی معنے کئے جائیں کہ قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے تو یہ بھی ہمارے لئے مفید ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن اس وقت جمع تھا۔ اس لئے دشمن اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے تھے۔ مسلمانوں کے پاس قرآن محفوظ تھا مگر منافق اس کے ٹکڑے ٹکڑے رکھتے تھے۔ پنجم ۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ چونکہ رسول کریم میں ہم ان پڑھ تھے۔ اس لئے کاتب جو چاہتے لکھ دیتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ملی ایم نے پہلے سے ہی اس کا انتظام کر لیا تھا۔ اور وہ یہ کہ جب وحی نازل ہوتی تو کاتب کو کہتے لکھ لو اور چار آدمیوں کو کہتے یاد کر لو۔ اس طرح لکھنے والے کی غلطی یاد کرنے والے درست کراسکتے تھے۔ اور یاد کرنے والوں کی غلطی لکھنے والا بتا سکتا تھا۔ فرض کرو لکھنے والے نے لفظ غلط لکھ لیا مگر یاد کرنے والے اس غلطی کے ساتھ کیونکر متفق ہو سکتے تھے ، اس طرح فورا غلطی پکڑی جا سکتی تھی۔ ششم۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان کے وقت قرآن کے پڑھنے میں بہت اختلاف ہو گیا تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کسی صحیح روایت سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ حضرت عثمان کے وقت قرآن کے متعلق اختلاف ہو گیا تھا۔ بلکہ صاف لکھا ہے کہ قراءت میں اختلاف تھا۔ اور حدیثوں سے ثابت ہے کہ سات قراء توں پر رسول کریم میں ہم نے قرآن پڑھا۔ چونکہ بعض قوموں کے لئے بعض الفاظ کا ادا کرنا مشکل تھا۔ اس لئے رسول کریم میں ایم کو بذریعہ وحی بتلایا جاتا کہ ان الفاظ کو اس طرح بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اس بارہ میں روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی نے بیان کیا کہ حضرت عثمان نے انہیں بلا کر کہا کہ مختلف قبائل کے لوگ کہتے ہیں