انوارالعلوم (جلد 10) — Page 505
۵۰۵ خدا تعالیٰ قرآن کریم کے متعلق کہتا ہے کہ یہ کسی شاعر کا کلام نہیں تو اس کا کیا مطلب ہے- قرآن کریم آہستہ آہستہ کیوں نازل ہوا (۳۹)یہ بحث بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم ٹکڑے ٹکڑے کر کے کیوں نازل ہوا- کیوں نہ ایک ہی دفعہ نازل ہو گیا- قرآن کریم کا کوئی ترجمہ اس کے سارے مضامین پر حاوی نہیں ہو سکتا (۴۰)یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم کا کوئی ترجمہ اس کے سارے مضامین پر حاوی نہیں ہو سکتا- قرآن کریم کے تمام الفاظ الہامی ہیں (۴۱)یہ بحث بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم کے وہی الفاظ ہیں جو خدا تعالیٰ نے نازل کئے یا محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو خیال آیا- اسے آپ نے اپنے لفظوں میں لکھوا دیا؟ یورپ اس دوسری صورت کو ثابت کرنے کے لئے بڑا زور لگاتا ہے- وجہ یہ کہ انجیل کے نسخوں میں چونکہ اختلاف ہے- اس لئے وہ کہتے ہیں کہ الفاظ الہامی نہیں بلکہ مطلب الہامی ہے- اگر الفاظ میں اختلاف ہے تو کوئی حرج نہیں- کہتے ہیں کسی گیڈر کی دم کٹ گئی تھی- اس نے سب گیڈروں کو جمع کر کے تحریک کی کہ ہر ایک کو اپنی دم کٹوا دینی چاہئے- اس نے دم کے کئی ایک نقصان بتائے- کئی گیڈر اس کے لئے تیار ہو گئے- لیکن ایک بوڑھے گیڈر نے کہا کہ پہلے دم کٹانے کی تحریک کرنے والا اٹھ کر دکھائے کہ اس کی اپنی دم ہے یا نہیں- اگر اس کی دم پہلے ہی کٹی ہوئی ہے تو معلوم ہوا کہ وہ سب کو اپنے جیسا بنانا چاہتا ہے- یہی حال یورپ والوں کا ہے- ان کی انجیلوں میں چونکہ اختلاف پایا جاتا ہے-اس لئے وہ قرآن کے متعلق بھی یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس کے الفاظ الہامی نہیں- قرآن کریم ہر قسم کے شیطانی کلام سے مُنزّہ ہے (۴۲)یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ قرآن کریم میں کوئی شیطانی کلام بھی شامل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اس سوال کا سامان مسلمانوں نے ہی بہم پہنچایا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر نعوذ باللہ بعض شیطانی فقرے جاری ہو گئے تھے جن کے متعلق جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں- یوروپین لوگ کہتے ہیں