انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 499 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 499

۴۹۹ اس پر ایک کتاب بھی لکھی ہے- اس میں اس نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ قرآن کریم کے نزدیک پہلی کتابیں صحیح ہیں- قرآن کریم کی پہلی کتب سے تصدیق (۶)چھٹا سوال یہ ہو گا کہ اتنی عظیم الشان کتاب جو یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ساری دنیا کے لئے ہے اس کی تصدیق پہلی کتب سے ہوتی ہے یا نہیں اور کیا قرآن کریم کا ذکر پہلی کتب میں موجود ہے؟ تا لوگ معلوم کر لیں کہ پہلی کتب میں اس کی جو خبر دی گئی تھی یہ اسی کے مطابق آیا ہے- قرآن کریم میں پہلی کتب سے زائد خوبیاں (۷)ساتواں سوال اس کے ساتھ ہی یہ پیدا ہو جائے گا کہ قرآن کریم پہلی کتابوں سے کون سی زائد چیز لایا ہے- یا تو وہ یہ کہے کہ پہلی سب کتابیں جھوٹی ہیں اس لئے مجھے نازل کیا گیا ہے- لیکن اگر وہ یہ کہتا ہے کہ وہ بھی سچی ہیں تو پھر یہ دکھانا چاہئے کہ قرآن کریم زائد خوبیاں کیا پیش کرتا ہے- ورنہ اس کے نازل ہونے کی ضرورت ثابت نہ ہوگی- پس یہ ثابت کرنا بھی ضروری ہو گا کہ قرآن دوسری کتب کے مقابلہ میں افضل ہے- ترتیب قرآن (۸)ایک سوال یہ بھی ہو گا کہ آیا قرآن کریم میں کوئی ترتیب مدنظر ہے؟ یعنی اس میں کوئی معنوی ترتیب ہے؟ یورپ والے کہتے ہیں کہ اس میں کوئی ترتیب نہیں- بالکل بے ربط کلام ہے- اور عجیب بات یہ ہے کہ مسلمان علماء نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ قرآن میں نعوذ باللہ کوئی ترتیب نہیں- لیکن کسی کتاب کا بیترتیب ثابت ہونا اس پر بہت بھاری حملہ ہے اور اگر اس میں ترتیب ہے تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ترتیب اس طرح نہیں جس طرح نازل ہوئی تھی- پہلی اتری ہوئی آیتیں پیچھے اور پچھلی پہلے کر دی گئیں ہیں-سورۃ علق پہلے نازل ہوئی مگر بعد میں رکھی گئی اور سورۃ فاتحہ بعد میں نازل ہوئی اور اسے پہلے رکھا گیا- اسی طرح اور آیتوں کو بھی آگے پیچھے کیا گیا ہے- مکہ میں بعض آیتیں اتریں جنہیں مدنی سورتوں میں درج کیا گیا ہے- اور بعض مدینہ میں اتریں انہیں مکی سورتوں میں لکھا گیا ہے- اب سوال یہ ہے کہ اگر واقعہ میں قرآن کریم کی ترتیب مدنظر تھی تو پھر کیوں اسی طرح جمع نہ کیا گیا جس طرح نازل ہوا تھا- اور اگر وہ ترتیب صحیح ہے جس میں اب قرآن موجود ہے تو پھر کیوں اسی ترتیب سے نازل نہ ہوا؟ یہ ایک اہم سوال ہے جو اہل یورپ نے اٹھایا ہے- اسے خدا تعالیٰ کے فضل سے اصولی