انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 491 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 491

انوار العلوم جلد ۱۰ ۲۹۱ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۸ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۲۸ء (فرموده ۲۶ دسمبر ۱۹۲۸ء بر موقع جلسه سالانه ) میری غرض اس وقت یہاں آنے کی صرف یہ ہے کہ میں دعا کے ساتھ اس جلسہ کا افتتاح کروں۔ میں اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتا ہوں کہ اس نے مجھے آج اس موقع پر یہاں آنے کی توفیق دی ہے، ورنہ پر سوں شام تک میں امید نہیں کرتا تھا کہ آکر جلسہ کا افتتاح کر سکوں گا۔ اس وقت میں دوستوں کو صرف اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری دعا ئیں حقیقی دعائیں ہونی چاہئیں۔ جس طرح دنیا میں اور رسمیں ہیں جنہیں ادا کیا جاتا ہے ، اسی طرح دعا ئیں بھی لوگ رسمی طور پر کرتے ہیں۔ جس طرح دنیا دار لوگ اپنے جلسوں کے افتتاح کے موقع پر بعض قومی رسوم ادا کرتے ہیں اسی طرح بعض مذہبی لوگ اپنے جلسوں کا افتتاح دعا کے ساتھ کرتے ہیں۔ مگر ان کی دعائیں ان کے ہونٹوں سے نیچے قلوب سے نہیں نکل رہی ہو تیں اور پھر ان کے ہاتھوں کے فاصلہ سے آگے پرواز نہیں کرتیں۔ ان کی دعائیں زبانوں سے نکل کر ہونٹوں تک آکر رہ جاتی ہیں نہ ان کے دل سے نکلتی ہیں نہ خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلاتی ہیں۔ وہ ایک جسم ہوتی ہیں بلا روح کے یا ایک تلوار ہوتی ہیں جس کی دھار بالکل گند ہوتی ہے۔ بلکہ اگر میں قرآن کے الفاظ کی ترجمانی کروں تو میں کہوں گا کہ وہ ایسی تلوار ہوتی ہے جس کی دھار کند ہوتی ہے جو دشمن پر پڑتی ہے لیکن اس کی دوسری طرف بہت تیز ہوتی ہے۔ جو ایسی تلوار چلانے والے کو کاٹ دیتی ہے۔ کیون ے۔ کیونکہ خدا تعالی کہتا ہے ۔ فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ ، وہ دعا بجائے اس کے کہ کوئی مفید اثر پیدا کرے اس کو کو کاٹ کا دیتی ہے جو ایسی دعا کرتا ہے۔ کیونکہ وہ خداوند خدا زمین و آسمان کے خالق خدا سے ہنسی اور تمسخر ہوتا ہے۔ له