انوارالعلوم (جلد 10) — Page 484
۴۸۴ وہ ذلت کے جامے کو اُتار پھینکیں- اور اپنی موروثی عزت کو مضبوط ہاتھوں سے پکڑ لیں- ہاں مگر یاد رہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے- کہ تو جس سے بھی محبت کرتا ہے، اس سے بھی حدود کے اندر ہی محبت رکھ- اور جس سے بغض رکھتا ہے، اس سے بھی حدود کے اندر ہی بغض رکھ- شرافت کا امتحان مخالفت ہی کے وقت میں ہوتا ہے- پس اپنے حقوق کے لئے پوری جدو جہد کریں- لیکن ایسے ذرائع اختیار نہ کریں جو دین اور دیانت کے خلاف ہوں- میں حیران ہوں کہ کیوں ان لوگوں کے منہ بند کرنے کی کوشش کی جاتی ہے- جو مخالف خیالات رکھتے ہیں- ہمیں چاہئے کہ ہم ان کی سنیں اور اپنی سنائیں- خیالات کا اختلاف تو دنیا کی ترقی کی کلید ہے- پس اس سے گھبرانا نہیں چاہئے- اگر کوئی بددیانتی کرتا ہے تو اپنی بددیانتی کی سزا پائے گا- لیکن اگر وہ نیک نیتی سے ہمیں اپنے خیالات سنانا چاہتا ہے- تو اس کی مخالفت کر کے خواہ ہم حق پر ہی ہوں، اپنے لئے نیکی کے دروازے بند کر دیں گے- بجائے جنگ و جدل کے مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک مستقل اور نہ ختم ہونے والی جدو جہد کو اختیار کریں- اور گالی کا جواب محبت سے اور سختی کا جواب نرمی سے دیں- تا کہ دنیا کو یہ معلوم ہو کہ ان کے اندر ایک ایسی طاقت ہے جسے بغض و عناد کی آندھیاں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں- وہ اپنے نفوس پر اعتماد رکھتے ہیں اور مضبوط چٹانوں کی طرح ہیں جو ہر حالت میں اپنی جگہ قائم رہتی ہیں نہ کہ چھوٹے کنکروں کی طرح کہ جو تھوڑی سی ہوا پر اودہم مچا دیتے ہیں- واخر دعونا ان الحمدللہ رب العلمین خاکسار مرزا محمود احمد ۱؎نہرو رپورٹ صفحہ۱۷،۱۸ ۲؎نہرو رپورٹ صفحہ۹۵ ۳؎ نہرو رپورٹ صفحہ ۲۵ ۴؎ نہرو رپورٹ صفحہ ۳۲ ۵؎ نہرو رپورٹ صفحہ ۲۸ ۶؎سول اینڈ ملٹری گزٹ ۲ جنوری ۱۹۲۸ء صفحہ۳ ۷؎سول اینڈ ملٹری گزٹ ۲ جنوری ۱۹۲۸ء صفحہ۵ کالم۳