انوارالعلوم (جلد 10) — Page 478
۴۷۸ ووٹ دینے کیلئے نکلیں- ورنہ قریباً ناممکن ہے- پس ہمارے لئے غور کر کے کسی درمیانی نتیجہ پر پہنچنا نہایت ضروری ہے- خارجی تعلقات دوسرا سوال خارجی تعلقات کا ہے- نہرو کمیٹی نے خارجی تعلقات کے متعلق صرف ایک مختصر سا نوٹ دیا ہے- اور نہایت ہوشیاری سے اس کی تفصیلات میں پڑنے سے گریز کیا ہے لیکن جو کچھ انہوں نے اشارتاً کہا ہے- وہ مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے- ان کے بیان کا ماحصل یہ ہے کہ برطانیہ ہندوستانی گورنمنٹ کی وساطت سے جو معاملہ ہندوستان کے اردگرد کی ایشیائی حکومتوں سے کرتا ہے- وہی آئندہ ہندوستانی حکومت ان حکومتوں سے کرے- میرے نزدیک وہ دن اسلامی حکومتوں کیلئے نہایت ہی تاریک ہوگا جب عرب پر اوم کا جھنڈا گاڑنے کی نیت رکھنے والے ہندوستان کی خارجی پالیسی کے نگران ہوئے اور افغانستان، ایران اور عرب کے تعلقات ان کے سپرد کئے گئے- انگلستان کے تعلقات ان ایشیائی حکومتوں سے بالکل ہی اور اصول پر مبنی ہیں- ان کی پشت پر اقتصادی برتری کا خیال متحرک ہے- لیکن آزاد ہندوستان کی حکومت جو ابھی سے سیاسی برتری کے خواب دیکھ رہی ہے ان تعلقات کو بالکل ہی اور نگاہ سے دیکھے گی- پس میرے نزدیک خارجیتعلقات برطانوی گورنمنٹ کے ہی ہاتھوں میں رہنے چاہئیں- سوائے ان چھوٹے معاملات کے جو تجارت، مسافروں، ڈاک خانہ اور اسی قسم کے چھوٹے معاملات سے تعلقات رکھتے ہیں- ورنہ ہندوستانی حکومت پاس کی اسلامی حکومتوں کے معاملات میں زیادہ سے زیادہ دخل اندازی کی کوشش کرتی رہے گی- احترام جمعہ المبارک تیسرا سوال جمعہ کے احترام کا سوال ہے- قومی زندگی کے برقرار رکھنے کیلئے یہ سوال نہایت اہم ہے- اگر یہودی اپنی شریعت کے نزول کے ساڑھے تین ہزار سال بعد اپنے سبت کی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اور مسیحی اتوار کی حفاظت معاہدات کے ذریعہ سے کراتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان جمعہ کی نماز کیلئے سہولت کو قانون کا ایک اہم جزو قرار نہ دیں- اسلامی مذہبی قانون چوتھا سوال اسلامی مذہبی قانون کا ہے- ایک مشترکہ حکومت میں خالص اسلامی قانون تو رائج نہیں ہو سکتا- لیکن کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان اہلی اور عائلی معاملات میں اسلامی قانون کے نفاذ پر زور نہ دیں-