انوارالعلوم (جلد 10) — Page 477
۴۷۷ دیں- اور اپنے کام کی بنیاد حسد اور افتراق پر نہیں بلکہ حبالوطنی اور اعتراف خدمات پر رکھیں- میں امید کرتا ہوں کہ اگر ہم اس طرح کام کریں گے تو ہمارے لئے کامیابی آسان ہو جائے گی- ہمیں یہ نہیں بھلانا چاہئے کہ اس رپورٹ کے لکھنے والے خواہ کتنے ہی تجربہ کار اور خیر خواہ ملک افراد ہوں مگر پھر بھی دو ایک خاص مذہب اور سوسائٹی سے تعلق رکھتے تھے اور طبعاً ان کا میلان اس مذہب اور سوسائٹی کی طرف تھا- پس ہمیں ان کی اس بشری کمزوری اور نقص کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے معاملہ کرنا چاہئے- اور سوچنا چاہئے کہ اگر فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہوتا تو شاید ہم میں سے بعض ویسی ہی کمزوری دکھاتے- پس میرے نزدیک ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم اس رپورٹ کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں نہ کہ تردید کی نظر سے- اس میں کوئی شک نہیں کہ رپورٹ لکھنے والوں نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ان کی تجاویز ایسی ہیں کہ اگر انہیں قبول کرنا ہو تو یکجائی صورت میں وہ قبول کی جا سکتی ہیں- لیکن ان کی اس رائے کا ملک پابند نہیں ہے- ان کے مدنظر رپورٹ لکھتے وقت یہ تھا کہ ہم کچھ نہ کچھ کر کے دکھائیں- اور ہمارے مدنظر یہ ہوگا کہ ہم اس کام میں سے اچھا اور برا الگ الگ چھانٹ لیں- پس ہمیں حق ہے کہ ہم مناسب تبدیلیاں کر کے اپنے ہمسایوں سے کہیں کہ آپ نے اپنی قوم کے فوائد کو سوچ لیا ہے- ہم نے اپنی قوم کے منافع پر غور کر لیا ہے- آؤ اب ملکر فیصلہ کر لیں کہ کس نقطہ پر ہم دونوں جمع ہو سکتے ہیں- ووٹ دہندگی کا سوال غور طلب ہے میرے نزدیک صرف انہی مطالبات پر غور کرنا ضروری نہیں ہے جن کا ذکر میں اوپر کر آیا ہوں- بلکہ اس کے علاوہ اور بھی سوالات ہیں کہ جن پر اسلامی نقطہ نگاہ سے غور کرنا ہمارے لئے ضروری ہے- مثلاً ایک سوال حق ووٹ دہندگی کا ہے- یہ سوال بہت پیچیدہ ہے- میرے نزدیک عورتوں کا بھی حق ہے کہ وہ مشورہ میں حصہ لیں- اور ہم ایک حصہ انسانی کو اس کے حقوق سے یکسر محروم نہیں کر سکتے- لیکن دوسری طرف اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر ہر بالغ مرد و عورت کو ووٹ کا حق دیا جائے تو مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچنے کا احتمال ہے- مسلمان تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور ان کی عورتیں ان کے مردوں سے بھی- پھر پردہ کا سوال ہے- ووٹ دینا اگر ہر ووٹر کے لئے جیسا کہ زیکوسلویکا اور بعض دوسری حکومتوں میں لازمی قرار دیا گیا ہے، یہاں بھی لازمی قرار دیا جائے- اور نہ دینے والے کو سزا ملے تب تو شاید مسلمان عورتیں