انوارالعلوم (جلد 10) — Page 9
انوار العلوم جلد 10 ۹ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں آئے گا جب تم کھڑے ہو گے۔ اور زندگی کے ہر شعبہ میں کمال کر کے دکھاؤ گے۔ تم کس دن کا انتظار کر رہے ہو۔ کیا اس سے بھی زیادہ ذلت کے بعد اٹھو گے۔ بچپن کا ایک واقعہ میں جب ان واقعات کو دکھتاہوں تو تھے اپنے بچپن کا ایک اقعہ یاد آ جاتا ہے۔ دو دکاندار لڑ رہے تھے ایک نے ایک بیٹے کو اٹھایا ہوا تھا۔ اور دوسرے کو کہہ رہا تھا اب گالی دے۔ وہ دوسرا دکاندار دکان میں گھس گیا اور کہا کہ دُوں گا اور دیتا جاتا تھا۔ پہلا بٹا تو ہاتھ میں رکھتا تھا مگر سوائے اس کہنے کے کہ اب کے گالی دے اور کچھ کر نہ سکتا تھا۔ مجھے اس وقت بھی حیرت ہوتی تھی کہ یہ منہ سے کیوں کہتا ہے مارکیوں نہیں دیتا۔ پس جب میں مسلمانوں کے اس قسم کے دعوے سنتا ہوں تو یہ واقعہ باوجود اپنی قباحت اور حماقت کے یاد آجاتا ہے۔ عملی قوت کے بغیر محض باتیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں اور مسلمان کی زندگی عملی ہونی چاہئے لاف و گزاف کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔ کیا ئیں مسلمانوں کو بزدل بناتا ہوں عملی زندگی کی طرف توجہ دیتا ہوں اور ان میں حقیقت اسلام پیدا کرنا چاہتا ہوں اور فسادات سے بچنے کا مشورہ دیتا ہوں تو۔ تو مجھے کہا جاتا ہے تو مسلمانوں کا دشمن ہے انہیں بزدل بنانا چاہتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میں مسلمانوں کا دشمن نہیں بلکہ میں تو دُنیا میں کسی بھی انسان کا دشمن نہیں۔ مسلمان مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ میں انہیں بزدل نہیں بنانا چاہتا ہاں یہ سچ ہے کہ میں انہیں حقیقی بہادر بنانا چاہتا ہوں جو اسلام کی عملی زندگی سے پیدا ہوتی ہے۔ میں پسند نہیں کرتا کہ مسلمان باتیں بنائیں بلکہ میں کام دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں انہیں زندگی کے ہر حصہ اور شعبہ میں ممتاز دیکھنا چاہتا ہوں اور اگر حقیقی بہادری کا ان میں ثبوت نہ ہو تو کون اسے تسلیم کرے گا۔ نبیوں کے دعوی کو بھی کوئی بلا ثبوت نہیں مانتا حالانکہ وہ خدا تعالی کی طرف سے آتے ہیں۔ جب ان کی یہ حالت ہے تو تمہارے دعوئی کی کیا حقیقت ہے۔ کہتے ہو تو کر کے دکھاؤ اور ہر شعبہ زندگی میں اپنے کمالات اور امتیاز کا ثبوت دو۔ مجھے حیرت ہوئی اگلے دن میں نے کسی کو کہتے ہوئے سنا کہ اردو شاعری میں دوسروں سے بڑھے ہوئے ہیں۔ میں کہوں گا اگر یہ صحیح بھی ہو تو یہ کس کام آئے گا۔ علمی ترقی کر کے دکھاؤ تاکہ وہ علمی مقابلوں میں تمہارے کام آئے اور سروسز میں تمہیں آگے بڑھا سکے۔ اب غور کرو کہ جب ہماری اپنی یہ حالت ہو تو ہم محض دوسروں پر زور ڈالنے سے کیا تسلی