انوارالعلوم (جلد 10) — Page 474
۴۷۴ بدل دے گا- پس نہ صرف وقتی تدبیر کے طور پر بلکہ ایک مستقل تدبیر کے طور پر انگلستان کے ساتھ اتحاد ہندوستان کے لئے اور خصوصاً مسلمانوں کے لئے مفید ہے- اور انہیں موجودہ حالات کی بجائے ان تغیرات پر زیادہ نگاہ رکھنی چاہئے جو اس وقت پیدا ہو رہے ہیں اور جن کا اثر مستقبل میں ایسے طور پر ظاہر ہونے والا ہے کہ وہ موجودہ حالات کو بالکل بدل ڈالیگا- قانون ِاَساسی کے غلط استعمال پر اپیل کی گنجائش ہونی چاہئے میں اصل مبحث سے کسی قدر دور جا پڑا ہوں- لیکن میرے نزدیک اتنا دور نہیں کہ جتنا بادی النظر سے دیکھنے والا خیال کرے گا- میرا مطلب یہ ہے کہ انگلستان سے تحالف جس کا بہترین ذریعہ بادشاہ انگلستان سے وابستگی ہے اور جسے دوسرے لفظوں میں ڈومینین سلف گورنمنٹ کہتے ہیں اس وقت ہندوستان کی حکومت کا مقصد رکھا گیا ہے- اور اس قسم کی حکومت کے ماتحت ایک غیر جانبدار جماعت کے پاس اپیل کا راستہ کھلا رکھا جا سکتا ہے- پس قانون اساسی میں اس کی اجازت ہونی چاہئے کہ جب کوئی فرد یا افراد دیکھیں کہ قانون اساسی کو حکومت غلط استعمال کر رہی ہے تو اس کے خلاف اپیل کر سکیں- اور یہ اپیل جیسا کہ دوسری ڈومینینز کے متعلق طے ہو چکا ہے، پریوی کونسل میں ہونی چاہئے- میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ ہندوؤں کے زور آور ہونے کی حالت میں ایسی اپیلوں کی طرف زیادہ توجہ نہ کی جائے گی- مگر صوبہجات کو حکومت خود اختیاری حاصل ہونے کی صورت میں مسلمانوں کی آواز اس قدر کمزور نہ ہوگی- اور ضرور ایسی اپیلوں سے قانون شکنی میں ایک حد تک روک پیدا ہو جائے گی- قانون اساسی میں تبدیلی قانون اساسی کے غلط استعمال کے علاوہ جیسا کہ میں لکھ آیا ہوں- قانون اساسی میں تبدیلی کے طریق کا بھی سوال ہے- اگر قانوناساسی اس طرح تبدیل ہو سکے کہ جب چاہے اکثریت اسے بدل ڈالے، تو ہماری ساری بحثیں اور ہماری ساری کوششیں لغو اور فضول ہو جاتی ہیں- کیونکہ اس صورت میں جب چاہیں ہندو ان اختیارات کو جو اس وقت مسلمانوں کو مل جائیں سلب کر سکتے ہیں- پس ضروری ہے کہ قانوناساسی کی تبدیلی کو ایسی شرائط سے مشروط کیا جائے کہ ایک بڑی بھاری قوم کی مرضی کے بغیر ہی اس میں تبدیلی اور تغیر نہ ہو سکے- میں افسوس سے کہتا ہوں کہ موجودہ قانون میں اس امر کا کوئی انتظام نہیں ہے بلکہ قانون اساسی کی تبدیلی کیلئے صرف دو تہائی ممبروں کے