انوارالعلوم (جلد 10) — Page 473
۴۷۳ برطانیہ کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے دوسرا طریق قانون اساسی کے استعمال کی حفاظت کا، اپیل ہے- ہندوستان کے حالات کے لحاظ سے اس میں دقتیں ہیں- ہندوستان کی حکومت کا منزل مقصود ڈومینین سلف گورنمنٹ (DOMINIONSELFGOVERNMENT) رکھا گیا ہے- اور میرے نزدیک یہی صحیح راہ ہے- بعض لوگ تو اسے درمیانی راہ سمجھتے ہیں اور اس وقت کے حالات کے لحاظ سے ضروری خیال کرتے ہیں- میرا اپنا خیال ہے کہ اپنی ذات میں بھی یہ طریق حکومت بہترین ہے اور خصوصاً مسلمانوں کیلئے- اس وقت نہ تو انگریز اس امر کو سمجھ رہے ہیں اور نہ ہندوستان اس امر کو سمجھتا ہے کہ برطانیہ کا مستقبل ایشیا اور خصوصاً اسلام سے وابستہ ہے- لیکن زمانہ مستقبل انشاء اللہ اس امر کو ثابت کر دے گا کہ حقیقت یہی ہے- انگلستان صدیوں کی عادت سے مجبور ہو کر اس امر کا اقرار کر سکے یا نہ کر سکے، حق یہی ہے کہ اس کی گرفت یورپ پر کمزور ہو چکی ہے- اس کا دبدبہ اب وہ نہیں جو پہلے تھا- اس کی جگہ آج ریاست ہائے متحدہ نے لے لی ہے- جس طرح کئی صدیاں پہلے انگلستان کی پالیسی تھی کہ یورپ کے معاملات میں دخل نہیں دینا- اسی طرح آج امریکہ کی بھی حالت ہے- مگر جس طرح انگلستان کو حالات سے مجبور ہو کر ایسی پالیسی کو بدلنا پڑا، اسی طرح ریاستہائے متحدہ کو بھی بدلنا پڑے گا- اور اس تبدیلی کے ساتھ ہی اس کی طاقت کا احساس بیرونی طاقتوں کو زیادہ ہونے لگے گا- اور انگلستان مجبور ہوگا کہ اپنی پوزیشن کے قیام کیلئے اور حلیف تلاش کرے- بلکہ یوں کہو کہ اور حلیف تراشے اور اس وقت سوائے ایشیاء کے اور خصوصاً اسلام کے ساتھ اتحاد کے بغیر انگلستان اپنا سر اقوام عالم میں اونچا نہیں رکھ سکے گا- جس طرح رومی حکومت جس وقت بازنٹائن حکومت میں تبدیل ہوئی تھی تو اس کی طاقت کا انحصار ایشیاء پر ہو گیا تھا، اسی طرح انگلستان سے ہوگا- اور جس وقت یہ احساس انگلستان میں پیدا ہونا شروع ہوگا، اس وقت وہ اسلام کی طرف خاص طور پر توجہ کرے گا- جس طرح براعظم کی طاقتوں کی مخالفت نے رومنکیتھولک انگلستان کو پروٹسٹنٹ بنا دیا تھا، اسی طرح نئی مخالفت کا دور اس کے اندر ایک نئی مذہبی تبدیلی پیدا کر دے گا- اور اس کے افراد اپنے اندر ایک فکر کی آزادی محسوس کریں گے- اور اس وقت اسلام کے لئے ایک خاص موقع ہوگا- بہرحال انگلستان کا مستقبل ایشیا سے وابستہ ہے اور اس صورت میں یقیناً ایشیا کی ترقی میں انگلستان ایک بڑی مدد ثابت ہوگا- اور اس کا نیا نقطہ نگاہ اس کے موجودہ رویہ کو بالکل