انوارالعلوم (جلد 10) — Page 468
انوار العلوم جلد ۱۰ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح کوئی دلیل نہیں۔ جس ملک میں ایسی اقوام بستی ہوں کہ جو اپنی جداگانہ تہذیب اور جداگانہ مذہب رکھتی ہوں اور ان کے درمیان میں ایک لمبے عرصہ سے جھگڑے اور مناقشے ہوں ان کے متعلق کوئی نہ کوئی احتیاط کرنی ضروری ہوگی ورنہ چھوٹی قوم کی تباہی یقینی ہو جائے گی اور اس کی ذمہ داری اکثریت پر ہی ہوگی۔ کیونکہ ایسے جھگڑوں کے موقعوں پر اکثریت ہی کے بس میں ہوتا ہے کہ وہ اقلیت کو اطمینان دلائے۔ پس حق تو یہ تھا کہ خود ہند و صاحبان مسلمانوں سے کہتے کہ آپ کو اطمینان دلانے کا طریق یہ ہے کہ آپ اپنے نمائندے الگ منتخب کریں۔ ا کریں۔ اور ہم اپنے نمائندے الگ منتخب کریں گے ۔ لیکن تعجب ہے کہ وہ مسلمانوں کے علاج پیش کرنے پر بھی اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جُداگانہ انتخاب سے افتراق جداگانہ انتخاب افتراق کا موجب نہیں پیدا ہوتا ہے مگر یہ ایک دھوکا ہے جس کا رز ا اصولاً تو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ اب واقعات کی طرف توجہ دلاتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ کیا ہندو مسلمانوں میں اختلاف جُدا گانہ انتخاب سے پہلے کا ہے یا پیچھے کا؟ اگر بعد کا ہے ؟ کا ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اس طریق فیصلہ سے پہلے مسلمانوں کی نسبت مختلف گورنمنٹ کے محکموں میں کیا تھی؟ اگر یہ واقعہ ہے کہ پہلے مسلمانوں کو پورا حق ملا کرتا تھا تو پھر بے شک کہا جائے گا کہ اس سے پہلے ہندوؤں کو مسلمانوں سے تعصب نہ تھا۔ لیکن اگر پہلے موجودہ حالت سے بھی بد تر حال تھا تو ماننا پڑے گا کہ جدا گانہ انتخاب سے تعصب نہیں پیدا ہوا بلکہ تعصب کی وجہ سے مسلمانوں کو جداگانہ انتخاب کا خیال پیدا ہوا ہے۔ اور اگر یہ ثابت بھی ہو جائے کہ آج کل پہلے سے زیادہ تعصب کی صورت پیدا ہے تو اس کا باعث مجدا گانہ انتخاب کو قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ ہندوؤں کی اس بے چینی کو کہ جو حقوق وہ پہلے بلا شرکت غیرے استعمال کر رہے تھے ، اب مسلمان بھی کسی قدر ان میں حصہ لے رہے ہیں۔ میں اس قصہ کو ختم کرنے سے پہلے یہ کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ نیابت کی اصل غرض ایک قوم کے صحیح خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ صحیح ترجمانی ایک قوم کی اس کا ہم مذہب ہی اچھی طرح کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ بات نہیں بھلانی چاہئے کہ الیکشن کے وقت عارضی اور جوش دلانے والے سوالات اٹھا کر ووٹ حاصل کر لئے جاتے ہیں۔ لیکن دوران اجلاس کو نسل میں بیسیوں نئے سوال پیدا ہو جاتے ہیں جن کا خود انتخاب کرنے والوں کو