انوارالعلوم (جلد 10) — Page 8
۸ جب تک ہم اندرونی اصلاح نہ کریں اور نفس میں تبدیلی نہ کریں فسادات نہ مٹیں گے۔مسلمانوں کی تعلّیاں میں ایک طرف ان فسادات کے اثرات کو دیکھتا ہوں جو مسلمانوں پر پڑتے ہیں اور پھر ملک کی متحدہ ترقی پر ہوتے ہیں اور دوسری طرف ایسے موقعوں پر مسلمانوں کو کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ اگر پھر ایسا موقع ہوا تو ہم بتادیں گے اور دکھا دیں گے۔اس قسم کے دعوؤں کو سن کر مجھے افسوس آتا ہے کہ اس سے ان کی حقیقی وقعت اور عزت کم ہو رہی ہے۔میری عمر ۳۸ سال کی ہے مگر میرا تجربہ اور تاریخی علم بتاتا ہے کہ ہمیشہ ہی مسلمانوں نے بتادینے اور دکھا دینے کے دعوی ٰکے باوجود کبھی کچھ دکھایا بھی؟ جواب یہی ہے کہ کچھ نہیں۔اگر بتانے اور دکھانے سے مراد لڑائی جھگڑے اور ملک میں خون کی ندیاں بہا دینا ہے تو میں کہوں گا کہ یہ قابل شرم ہے خواہ کوئی قوم کرے۔کیا دوسروں کی جان لینا اور لوگوں کو مارنا بھی بہادری ہے۔اگر یہ بہادری ہے تو وہ لوگ جو دنیا کے امن کو تباہ کرتے اور ڈاکے مار کر قتل و غارت کرتے اور با لآخر اور پھانسی پاتے ہیں سب سے بڑے بہادر ہوں گے؟ کیا تم ان کو بہادر کہتے ہو؟ کوئی عقلمند اور شریف الطبع انسان ایسے خونیوں اور ظالموں کو بہادر نہیں کہتا۔اگر اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر دوسروں کی جان بچاتے ہو اور مزدوروں کی حفاظت کرتے ہو تو یہ بہادری ہو گی۔میں سچ کہتا ہوں کہ ملک کے امن کو برباد کرنا اور فتنہ و فساد پیدا کرنا یہ بہادری نہیں۔میں مسلمانوں کو کہتا ہوں اس لئے کہ خطاب انہیں سے ہے کہ بتانے اور دکھانے کا یہ مطلب نہیں۔بتانے اور دکھانے کی کوئی اور بات ہے۔تم گزشتہ ۸۰ سال کی تاریخ پر نظر کرو کیا کوئی بھی میدان ایسا ہے جس میں تم نے کچھ کر کے دکھایا ہو۔تم جانتے نہیں کہ ہمارے اندر کیسی طاقتیں ہیں ان پر غور کرو اور پھر کیا شعبہ زندگی میں کچھ کر کے دکھاؤ تو بات بھی ہے۔تم ہندوؤں کے مقابلہ میں یہ دیکھو کہ تعلیم، تجارت، صنعت و حرفت اور ملازمت کے مقابلہ میں کہاں ہو؟ کیا تم بڑھ گئے ہو یا وہ آگے نکل چکے ہیں۔اگر تم پیچھے ہو اور ظاہر ہے کہ ہو تو یہ وقت ہے کہ کچھ کر کے دکھاؤ اور اپنے عمل سے بتاؤ کہ تم گو پیچھے ہو مگر ہمت اور کوشش سے آگے بڑھ سکتے ہو۔میں جانتا ہوں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ ہم بتا دیں گے دکھادیں گے تو وہ سچ کہتے ہیں ان میں یہ قوت اور استعداد ہے مگران کانفسی انکو دھوکا دیتا ہے۔پس اس غفلت اور غلط فہمی کو چھوڑ دو اور ایک عام صمیم کے ساتھ آگے بڑھنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔وہ دن کب