انوارالعلوم (جلد 10) — Page 460
۴۶۰ آزادی کم سے کم قربان ہو- اور حکومت میں زیادہ سے زیادہ ممکن حصہ اسے حاصل ہو- چونکہ حکومت بہت سے افراد کے ملنے سے ہوتی ہے- اور کوئی مجموعہ بہت سے افراد کا ایسا نہیں مل سکتا کہ جس کی رائے ہر اک امر میں متفق ہو- اس لئے درمیانی راہ حکومت کی یہ ہوگی کہ ہر امر میں اس رائے پر عمل ہو جس پر زیادہ سے زیادہ لوگ متفق ہوں- اور چونکہ ہر امر پر لوگوں کی رائے لینا ناممکن ہے، اس لئے آزادی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تجویز کی جائے کہ بجائے مسائل پر رائے لینے کے ملک کے عاقلوں، بالغوں سے یہ رائے لے لی جائے کہ حکومت کے معاملات میں کن لوگوں پر وہ اعتبار کرتے ہیں- تاکہ پیش آمدہ امور میں ان سے رائے لے لی جایا کرے- اس کے سوا کوئی اور معقول وجہ نیابتی حکومت کے قیام کی نہیں ہے- لیکن یہ سلسلہ خیالات اپنی تمام کڑیوں میں ایک اصل کی طرف اشارہ کرتا چلا جاتا ہے اور وہ حریت افراد ہے- تمام افراد آزاد ہیں- اپنے معاملات میں فیصلہ کرنے کا کامل حق انہیں حاصل ہے- حکومت کی خاطر اپنے حق کو چھوڑ دینا ایک مجبوری کا امر ہے- ہر اک جو اپنی حریت کو چھوڑتا ہے، وہ گویا ملکوقوم کی خاطر ایک قربانی کرتا ہے- اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ انسانی طبائع مختلف ہیں ایک معاملہ میں لوگ مجھ سے اختلاف رکھتے ہیں تو دوسرے معاملہ میں مجھ سے اتفاق کریں گے- اس لئے میں ایک بات دوسروں کے لئے چھوڑ دیتا ہوں کہ دوسرے موقع پر اسی قانون کے ماتحت میری بات مانی جائے گی- جہاں تک افراد کا سوال ہے اور پھر خصوصاً سیاسیات کا یہ سمجھوتا ٹھیک چلتا ہے- لیکن جس وقت قومیتوں اور مذہب کا سوال درمیان میں آجاتا ہے، یہ دلیل رہ جاتی ہے- کیونکہ کوئی شخص قومیت اور مذہب کو قربان نہیں کر سکتا- وہ اپنی رائے کو تو کثرت کے لئے اس وجہ سے قربان کرتا تھا کہ دوسرے ہی معاملہ میں کثرت میرے ساتھ ہو گی- لیکن وہ مذہب اور قوم کو کس بنا پر قربان کر سکتا ہے- کیا وہ امید کر سکتا ہے کہ دوسرا بھی میری خاطر مذہب اور قوم قربان کر دے گا- اور فرض کرو کہ دوسرا شخص اس امر کے لئے تیار بھی ہو جائے- کیا ایک دیانتدار آدمی اپنے مذہب کو اس لئے چھوڑ دے گا کہ دوسرا بھی اپنے مذہب کو چھوڑنے کے لئے تیار ہے؟ ہرگز نہیں- پس ایسے وقت میں لازماً وہ یہ سوال کرے گا کہ میری قومیت اور مذہب کی حفاظت کا سامان کر دو- تب میں اپنا پیدائشی حق آزادی مجموعہ افراد کے حق ِّمیں چھوڑنے کے لئے تیار ہوں-