انوارالعلوم (جلد 10) — Page 458
انوار العلوم جلد 10 ۴۵۸ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح رکھیں کہ ہندو اقلیت ہیں اور اقلیت میں جوش اکثریت سے زیادہ ہوتا ہے۔ اور ا ہوتا ہے۔ اور اس سے بڑھ کر اس بات کو بھی دیکھیں کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں پنجاب میں دو اقلیتیں ہیں۔ اور ان میں سے ہر اک یہ سمجھتی ہے کہ میں بہت تھوڑی ہوں اور یہ امر ان کے جوش کو بڑھا دیتا ہے۔ اور پھر یہ دیکھیں کہ یہ دونوں اقلیتیں مل کر مسلمانوں کے قریب پہنچ جاتی ہیں تو خطرہ اور بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اگر مسلمان بعض اوقات اکثریت حاصل کر لیں گے تو یہ دوسری اقوام بھی ضرور اکثریت حاصل کرتی رہیں گی۔ اور اگر یہ ہوتا رہا تو پھر مسلمانوں کے لئے اس رنگ میں ترقی کرنے کا کوئی موقع نہ رہے گا جو ہندؤوں کو دوسرے صوبوں میں ملے گا۔ اور مسلمانوں کو چند ہی سال میں پورے طور پر اپنے آپ کو ہندو کلچر (CULTURE) کے آگے ڈال کر اپنی قومی ہستی کو کھو دینا پڑے گا۔ کلچر کی ترقی کے لئے زبر دست حکومت کی اس قدر ضرورت نہیں جس قدر کہ متواتر حکومت کی۔ اور وہ تب ہی حاصل ہو سکتی ہے جب کہ محفوظ نشستیں ہوں بیشک اس صورت میں ہندؤوں کا عصر قریباً ہر حکومت میں شامل رہے گا۔ مگر میرے نزدیک یہ بہتر ہوگا کیونکہ اس طرح فرقہ وارانہ حکومت کا سد باب ہو جائے گا اور اتحاد میں زیادہ مدد ملے گی۔ چوتھا مطالبہ مسلمانوں مسلمانوں کا چو تھا مطالبہ مرکزی حکومت میں اسلامی نیابت کا مطالبہ تھا ماموں تھا کہ مرکزی حکومت میں انہیں ایک ثلث نیابت دی جائے۔ اور کم سے کم ان کے موجودہ حق کو کم نہ کیا جائے۔ جیسا کہ میں اوپر لکھ آیا ہوں اس مطالبہ کو بھی رد کر دیا گیا ہے۔ نہرو رپورٹ میں لکھا ہے۔ ہم نے خوب غور کیا ہے لیکن ہم افسوس کرتے ہیں کہ ہم مرکزی پارلیمینٹ کی گل نشستوں میں سے ایک تہائی کی مسلمانوں کے لئے سفارش نہیں کر سکتے۔ "Yo اس کی جگہ جو کچھ رپورٹ تجویز کرتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ جن صوبوں میں مسلمان بہت کم ہیں۔ ان میں ان کے حقوق بقدر آبادی محفوظ کر دئے جائیں۔ اور پنجاب اور بنگال میں آزاد مقابلہ رہے۔ مجنونانہ خیال میں یہ بتا چکا ہوں کہ خود نہرو رپورٹ کے بیان کے مطابق ان صوبوں میں جن میں مسلمان کم ہیں مسلمانوں کا زیادہ حق نے ! ئے لینا تو بڑی بات ہے ، وہ اس قدر