انوارالعلوم (جلد 10) — Page 6
انوار العلوم جلد 10 ។ مسلمانوں کی انفرادی اور قومی ذمہ داریاں فیصلہ اس طرح پر کرتا ہوں کہ بچہ کو ذبح کر کے دونوں میں آدھا آدھا تقسیم کر دوں۔ یہ کہہ کر چھری کو ایسے انداز سے پکڑا کہ گویا وہ ابھی ذبح کر دیں گے۔ یہ دیکھ کر بچے کی اصل ماں جو اپنی مامتا سے بے قرار تھی نے کہا خدا کے واسطے ایسا نہ کرو یہ بچہ میرا نہیں اس دوسری کا ہے۔ مگر اس دوسری کو ذرا بھی احساس نہ تھا اور وہ خامو خاموش کھڑی تھی۔ حضرت سلیمان نے اس پر اس ماں کو جو اپنی ہو۔ امامتا کا اظہار کر چکی تھی بچہ دے دیا اور کہا کہ تو ہی اس کی اصلی ماں ہے تیرا بچہ تجھے مبارک ؟ اب غور کرو کہ ایک عورت اپنے بچہ کو قربان ہوتا ہوا نہ دیکھ سکی۔ اگر وہ اپنے سینہ پر سل رکھ کر دوسری عورت کے سپرد کرنے کو اس لئے تیار ہوئی کہ بچہ زندہ رہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ایک قوم یہ دیکھتے ہوئے کہ اس کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے اور امن برباد ہو رہا ہے وہ چھوٹی سے چھوٹی قربانی بھی نہ کر سکے اور اس فساد کو دور کرنے کی کوئی تدبیر نہ کرے تو وہ کس طرح محبت ملک کہلا سکتی ہے۔ پس جو ہندو یا مسلمان فساد کو دیکھ کر خاموش بیٹھا رہتا ہے اور ملک میں امن قائم کرنے کی فکر نہیں کرتا وہ ہرگز ہرگز ہندوستانی کہلانے کا مستحق نہیں۔ وہ اپنے دعوی میں جھوٹا اور ہندوستان کے لئے ننگ و عار ہے۔ یہ فسادات کیسی خطرناک صورتیں اختیار کر چکے ہیں۔ گزشتہ تین ماہ کے واقعات سامنے ہیں۔ لاہور، امرتسر، ملتان، کانپور، بریلی، بیتا اور اب ناگپور کے خونی واقعات نے حالات کو بد سے بدتر بنا دیا ہے اور ملک کے امن کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ یہ حالت کسی صورت میں ملک کو ترقی کرنے کے قابل نہ رہنے دے گی۔ وصیت سے کو توجہ دلاتا کہ کہ وہ ملک میں مسلمان توجہ کریں تو دنیا میں ابھی بات کی سے کم ہیں۔ مال ہی نہیں تعلیمی حالت میں بھی بہت پیچھے ہیں۔ پھر تعلیمی حالت ہی میں نہیں بلکہ وہ اس حصہ میں بھی بہت پیچھے ہیں جو ترقی کا موجب ہوتا ہے۔ یعنی گورنمنٹ سروسز۔ ان تمام باتوں میں ہی نہیں بلکہ میں باوجود یہ کہتے ہوئے شرم و ندامت محسوس کرنے کے کہوں گا کہ وہ انسانی حالت میں بھی پیچھے ہیں۔ ان کی تربیت نہیں، ان میں نظام قائم نہیں۔ پس ایسی حالت میں جبکہ وہ دوسروں سے پیچھے اور بہت پیچھے ہیں تو میں پوچھتا ہوں کہ وہ بتائیں کہ کل ان کا کیا حال ہو گا۔ ایک معزز قوم کی زندگی تو جدا امر ہے وہ سوچیں کہ ایسی حالت میں کیا وہ ذلیل ہو کر بھی