انوارالعلوم (جلد 10) — Page 442
شهرور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح ۴۴۲ انوار العلوم جلد ۱۰ ضروری ہوگا کہ اس کی صوبہ جات کی حکومتیں اداری ضرورتوں کیلئے وقتا فوقتا مشورے کیا کریں۔ نہرو کمیٹی کے رو سے بالکل ممکن ہے کہ کسی وقت پنجاب و بنگال میں مسلمان ہی حاکم ہوں اور کسی وقت ہندو ہی حاکم ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ جس وقت ہندو ہی حاکم ہونگے۔ اس وقت اگزیکٹو (EXECUTIVE) کے مشوروں میں مسلمانوں کی آواز کیا ہوگی۔ یقینا کوئی تسلیم نہیں کر سکتا کہ سرحد اور سندھ کے چھوٹے چھوٹے صوبے اس ضرورت کو پورا کر سکیں گے پس قومی نقطہ نگاہ سے بھی یہ ضروری ہے کہ پنجاب اور ہندوستان کے لئے ایسا قانون بنایا جائے کہ یہاں کی ہر حکومت میں اسلامی عصر موجود رہے۔ اور اس کی صرف یہی صورت ہے کہ ان صوبوں میں مسلمانوں کا حق نیابت محفوظ کر دیا جائے۔ میں اس اہم معاملہ کے متعلق ایک اور دلیل بھی دیتا ہوں اور وہ یہ ہے۔ کہ پانچویں دلیل نہرو کمیٹی نے بھی اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ ہر قوم کی تہذیب جدا گانہ ہوتی ہے۔ اور ہر قوم اپنی روایات کے مطابق ترقی کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اور باوجود ایک ملک میں رہنے اور ایک سیاست میں پروئے جانے کے پھر آپس میں تہذیب کے بارے میں اختلاف ہوتا ہے۔ نہرو رپورٹ میں لکھا ہے۔ حفاظت کا احساس پیدا کرنے کے ذرائع صرف یہ ہیں کہ حفاظتی تدابیر اور کفالتوں کے ساتھ یہ حد ممکن کسی قوم کو تہذیبی آزادی عطا کی جائے۔ ۵۷ پس معلوم ہوا کہ نہرو کمیٹی کو تسلیم ہے کہ مختلف اقوام کی تہذیب مجدا گانہ ہوتی ہے۔ اور اس کی حفاظت کا مطالبہ غیر معقول نہیں۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کو علاوہ اطمینان اور اعتبار کی صورت پیدا کرنے کے اداری محکموں میں اپنی آواز کی نیابت کے حصول کے علاوہ صوبہ جات میں اپنی تعداد کے مطابق نیابت کے حصول کی خواہش کے یہ بھی خواہش ہے کہ ان دو صوبوں میں جن میں ان کی اکثریت ہے، وہ اسلامی روایات کے مطابق اپنی مخصوص تہذیب کو نشود نما دیں۔ مجھے اس امر پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں کہ ہر قوم جب ترقی کرتی ہے تو چند اصولی مسائل پر اس کی تہذیب کی بنیاد پڑتی ہے۔ اور وہ اپنی روایات اور ترقی کی راہوں میں دوسری اقوام سے ایک جداگانہ صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اسے انگریزی میں کلچر (CULTURE) کہتے ہیں۔ اور اردو میں تہذیب ہی کہہ سکتے ہیں۔ گو تہذیب کا لفظ اس جگہ سویلزیشن (CIVILIZATION) سے کسی قدر مجداگانہ معنوں میں استعمال ہوگا۔ یہ کلچر XXX XXXXX