انوارالعلوم (جلد 10) — Page 438
۴۳۸ قدر مختلف ہیں کہ یورپ کی آزاد حکومتوں کی زبانیں بھی اس قدر مختلف نہیں- اور چونکہ ہندوستان کے بعض علاقوں میں آپ زیادہ ہیں اور بعض میں ہم- ہم اس امر پر راضی ہو جائیں کہ جس علاقہ میں کوئی قوم زیادہ ہے، اسے غالب عنصر حکومت میں مل جائے- اس طرح ایک دوسرے پر اعتماد پیدا ہو جائے گا- ہر اک قوم کہے گی کہ جب دوسری قوم نے مجھ پر اعتماد کیا ہے تو کیوں میں اس پر اعتبار نہ کروں- اور ٹھنڈے دل سے سب ہندوستان کی ترقی میں لگ جائیں’‘- تو اس میں کونسی بات خلاف عقل یا خلاف انصاف ہے- اس تجویز کے یہ معنی کیوں کئے جائیں کہ سی- پی میں اگر کوئی ہندو مسلمان کو مار لے گا تو پنجاب کا مسلمان پنجاب کے ہندو کو مارے گا- یا اس کے الٹ ہوگا- اور اس طرح ڈر کر انصاف قائم ہو جائے گا- اصل مطالبہ کی غرض تو یہ ہے کہ ہندو ہر جگہ مسلمان کو اپنے ماتحت رکھنا چاہتا ہے جہاں وہ عقلاً ماتحت نہیں رکھ سکتا- وہاں وہ ایسی تجویز کرتا ہے کہ اس کے غالب آنے کے لئے راستہ کھلا رہے- مسلمان کے دل میں قدرتاً اس پر شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت کا طریق یہ ہوگا کہ ہندوستان صوبوں میں تقسیم کیا جائے گا تو کیوں مجھے بھی ان صوبوں میں آزاد نشوونما کا موقع نہیں دیا جاتا- جن میں کہ میری قوم زیادہ ہے- اور یہ شبہ اسے کسی نہ کسی مخفی سبب کی طرف توجہ دلاتا ہے اور گو یہ شبہ صحیح ہو یا نہ ہو مگر صلح کے راستہ میں ضرور روک ہوتا ہے- ہندوؤں اور مسلمانوں کی اکثریت میں فرق اس موقع پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم نے صرف اسلامی اکثریت والے صوبوں میں تو ہر قوم کے لئے ترقی کا راستہ کھلا نہیں رکھا بلکہ ہم نے تو ہر صوبہ میں یہ راستہ کھلا رکھا ہے کہ اکثریت پر اقلیت غالب آ سکے- مگر میں پوچھتا ہوں کہ کیا بنگال اور پنجاب کے سوا جن میں اسلامی اکثریت ہے- کوئی اور بڑا صوبہ ہے- جس میں معقول طور پر یہ امید کی جا سکے کہ اقلیت اور اکثریت عام طور پر آپس میں جگہ بدلتی رہے گی؟ اگر نہیں تو دونوں مثالوں میں مشابہت کیا ہوئی- پنجاب اور بنگال میں اقلیت ایسی طاقتور ہے کہ اگر وہ اپنے علم مال اور انتظام کی زیادتی کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے حکومت پر قائم نہ ہو تو کم سے کم وہ اکثریت کے ساتھ اپنی جگہ کا تبادلہ ضرور کرتی رہے گی- لیکن مدراس، بمبئی، سی-پی، یو-پی، بہار اور برما میں مسلمانوں کی اقلیت جو کہیں بھی پندرہ فیصدی سے زیادہ نہیں ہمیشہ ہی اقلیت رہے گی- اور حکومت میں اسے کبھی