انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 437

۴۳۷ میں ممکن ہے کہ مطالبہ کسی قدر جائز ہو- لیکن ہم یہ ضرور محسوس کرتے ہیں کہ وہ ان اصول سے دور جا پڑا ہے- جن پر ہم نے اپنی سکیم کی بنیاد رکھی ہے- جب تک یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ بہترین حفاظت کا ذریعہ یہی ہے کہ ایک شخص خود حاکم بن بیٹھے’‘-۵۴؎ کیا مسلمانوں کا مطالبہ خلاف انصاف ہے نہرو کمیٹی کو یہ اعتراض ہے کہ مسلمانوں کے اس مطالبہ کے یہ معنی ہیں کہ اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت بغیر اس کے ہو ہی نہیں سکتی کہ انہیں ہی حاکم بنا دیا جائے- اور چونکہ یہ بات ظاہر نظر میں ہی خلاف انصاف نظر آتی ہے- اس لئے گویا نہرو کمیٹی نے نتیجہ کو ایک ہی بات میں محصور کر کے مسلمانوں کے مطالبہ کو خلاف انصاف ثابت کیا ہے- مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں نہرو کمیٹی نے مسلمانوں کے مطالبہ کے ایسے معنی لئے ہیں جو کم سے کم ان کے سمجھدار طبقہ کے ذہن میں نہیں ہیں- مجھے یاد ہے کہ شملہ اتحاد کانفرنس کے موقع پر بھی ایک ہندوڈیلیگیٹ )DELEGATE) نے جنہیں ڈاکٹر صاحب ڈاکٹر صاحب کہہ کر پکارا جاتا تھا، اور شاید اگر میں غلطی نہیں کرتا تو وہ ڈاکٹر نندلعل صاحب بیرسٹر تھے، یہ ذکر کیا تھا کہ یہ کیا تجویز ہوئی کہ سی- پی میں ایک مسلمان کو کوئی ہندو مارے اور پنجاب کا ایک مسلمان آکر اس کے بدلے میں میرے منہ پر تھپڑ رسید کر دے- میں جہاں تک سمجھتا ہوں یہ مفہوم مسلمانوں کے دل میں اس تجویز کا کبھی نہ تھا- قومی جرائم کی سزا میں باقی افراد قوم خواہ وہ جرم میں شریک ہوں یا نہ ہوں- یقیناً شریک ہوتے ہیں لیکن اس طرح بلاحد بندی سزائیں دینا یا بدلے لینا خلاف عقل و انصاف ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ اگر بعض مسلمان ہندوستان کی قسمت کا فیصلہ ہوتے ہوئے دیکھ کر ہندو صاحبان سے یہ کہیں کہ-: ‘’آپ بھی ہندوستان کی آزادی چاہتے ہیں اور ہم بھی آزادی چاہتے ہیں- آپ جانتے ہیں کہ بغیر ہماری مدد کے آپ کو یہ آزادی حاصل نہیں ہو سکتی- لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے آپ کے تعلقات ایک لمبے عرصہ سے اچھے نہیں ہیں- ہمیں شکایت ہے کہ ہر شعبہ زندگی میں ہمارے حقوق تلف کر دئے گئے ہیں- پس اس کا علاج یہ کیوں نہ کریں کہ چونکہ ہندوستان ایک براعظم کی حیثیت رکھتا ہے- جس کے اندر کئی ایسی زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے بعض ایک دوسرے سے اس