انوارالعلوم (جلد 10) — Page 435
انوار العلوم جلدها ۴۳۵ شهر ور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح سے ان دونوں صوبوں میں مسلمانوں کو چوہتر نشستیں ملنی چاہئیں۔ خلاصہ یہ کہ نہرو رپورٹ کے اپنے بیان کے مطابق بھی بغیر محفوظ نشتوں کے مسلمانوں کا حق محفوظ نہیں ہے اور دنیا کی کوئی سیاست اس امر کو تسلیم نہ کرے گی کہ آٹھ کروڑ آبادی کو اس کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ دوسری دلیل محفوظ نشتوں کی تائید میں یہ ہے کہ ہندوستان کی اقلیت اور دوسری دلیل اکثریت ایسی ہے کہ جس کی بنیاد مذہب پر ہے یورپ میں پارٹیوں کی بنیاد سیاست پر ہوتی ہے۔ اس لئے وہ تو روز بروز بدلتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ اس قدر جلد نہیں بدل سکتیں۔ پس اگر ایک قوم حاکم ہوگی تو اس کے بدلنے کا احتمال ہی نہ ہو گا۔ اور خطرہ ہے کہ وہ اپنے لمبے اور مسلسل دور حکومت میں دوسری قوم کو نقصان پہنچا دے۔ مثلاً اس کی اقلیت کو اور بھی کم کر کے دکھائے۔ جیسا کہ یورپ میں ہوتا ہے کہ حکومت میں غالب پارٹی دوسری پارٹی کی تعداد کو مردم شماری میں کم کر کے دکھا دیتی ہے یا انتخاب کے ایسے قاعدے تجویز کر دیتی ہے کہ جن سے اس کی پارٹی کو فائدہ ہوتا ہے اور دوسری پارٹی کو نقصان ہوتا ہے۔ پس ان خطرات سے کمزور پارٹیوں کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ نشستوں کو محفوظ کر دیا جائے تاکہ ایک دوسرے سے خطرہ نہ رہے۔ اور یاد رکھو کہ جب تک دل ایک دوسرے سے خائف رہیں گے، ملک میں امن نہ ہو گا۔ پس محفوظ نشتوں کا طریق امن کے قیام کا ذریعہ ہے نہ کہ اس کے مخالف۔ جب مسلمان یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے حقوق کے اتلاف کا خوف ہے تو کیا وجہ ہے کہ انہیں بنگال اور پنجاب میں بھی محفوظ نشستیں نہ دی جائیں ۔ بہر حال وہ ان صوبوں میں اپنا حق مانگتے ہیں اس سے زیادہ تو نہیں مانگتے۔ پس ان کا حق دینے سے انکار کرنا ان کے دلوں میں اور شبہ پیدا کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نہرو رپورٹ خود تسلیم کر چکی ہے کہ مخلوط انتخاب سے قوموں کے حق مارے جاتے ہیں۔ اور اس لئے انگلستان کی مثال بھی پیش کی ہے کہ وہاں کنزرویٹو پارٹی (CONSERVATIVE PARTY) تھوڑے ووٹوں سے حاکم ہو گئی۔ اور لیبر پارٹی (LABOUR PARTY) زیادہ ووٹ لیکر بھی شکست کھا گئی۔ یہی سوال مسلمانوں کا ہے کہ دو ہی بڑے صوبے ایسے ہیں ۔ جن میں ان کی آبادی زیادہ ہے۔ اگر ان علاقوں میں یہی ہوتا رہا کہ تھوڑے ووٹوں والے جیتے رہے اور زیادہ ووٹوں والے محکوم رہے تو ان کے لئے مشکل پیش آجائے گی۔