انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 433

۴۳۳ زیادہ نمائندگی کا ملنا تو الگ رہا جو نمائندگی اس وقت مسلمانوں کو حاصل ہے، وہ بھی آئندہ انہیں حاصل نہ ہو سکے گی- اس حقیقت کے سمجھنے کیلئے یہ امر ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ اس وقت لیجسلیٹو اسمبلی (LEGISLATIVEASSEMBLY) میں مسلمانوں کو ساڑھے انتیس فی صدی حق نیابت حاصل ہے- آئندہ ہندوستانی پارلیمنٹ (PARLIAMENT) کے ممبروں کی تعداد نہرو کمیٹی نے پانچ سو تجویز کی ہے- پس آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کو سوا سو نشستیں ملنی چاہئیں اور موجودہ حق جو انہیں حاصل ہے اس کی رو سے ڈیڑھ سو نشستیں ملنی چاہئیں- کلکتہ مسلم لیگ کا اصل مطالبہ ایک تہائی کا تھا- پس اس کی رو سے ایک سو چھیاسٹھ ممبریاں مسلمانوں کو ملنی چاہئیں اب میں دکھاتا ہوں کہ نہرو کمیٹی کے اندازہ کے مطابق مسلمانوں کو کس قدر ممبریاں ملیں گی- نہرو کمیٹی اس امر کو تسلیم کرتی ہے کہ پنجاب اور بنگال سے مسلمان تیس اور چالیس کے درمیان نشستیں انتخاب کے ذریعہ سے حاصل کر سکیں گے- ہم فرض کر لیتے ہیں کہ جو بڑے سے بڑا اندازہ اس کا ہے، مسلمان خوش قسمتی سے اسی کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے- اور سمجھ لیتے ہیں کہ پنجاب اور بنگال سے مسلمانوں کو چالیس نشستیں حاصل ہو جائیں گی- دوسرے مسلمان صوبے سندھ، صوبہ سرحدی اور بلوچستان کے متعلق بھی ہم فرض کر لیتے ہیں کہ وہاں بھی ہندو مسلمانوں سے کوئی سیٹ چھین نہیں سکیں گے اور مسلمان اپنا حق پورا وصول کر لیں گے- چونکہ ان تینوں صوبوں کی آبادی اکاسٹھ لاکھ چھبیس ہزار ہے جس میں پانچفی صدی ہندو ہیں- پس کل مسلمان اٹھاون لاکھ باون ہزار ہوئے اور ان کا حق نیابت گیارہ نشستیں ہوا- یوپی میں مسلمانوں کی تعداد اکہتر لاکھ ہے- بہار میں پینتیس لاکھ، آسام میں پندرہ لاکھ، مدراس میں پچیس لاکھ، وسطی صوبہ میں قریباً پانچ لاکھ، بمبئی میں قریباً بارہ لاکھ- )سندھ کے علاوہ) برما کا حال مجھے معلوم نہیں- مگر غالباً زیادہ سے زیادہ پانچ لاکھ ہوگی- )کیونکہ ۱۹۰۱ء کی مردم شماری میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ چھیالیس ہزار تھی) یہ کل آبادی ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ ہوتی ہے- اور اس پر مسلمانوں کو تینتیس ممبریوں کا حق حاصل ہوتا ہے- گویا سب کا مجموعہ چوراسی ممبریاں ہوتی ہیں یہ خیال کر کے کہ انڈمان۵۱؎ کورگ اجمیر مار واڑ وغیرہ کو اس حساب میں شامل نہیں کیا گیا- اور بعض جگہ ہزاروں کی تعداد چھوڑ دی گئی ہے- تو ہم ایک کروڑ اڑسٹھ لاکھ کی جگہ ایک کروڑ پچہتر لاکھ فرض کر لیتے ہیں- اس صورت میں دو ممبر اور