انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 429

انوار العلوم جلد ۱۰ ۴۲۹ مهرور پورٹ اور مسلمانوں کے مصالح تیسرا مطالبہ مسلمانوں کا یہ تھا کہ ہر مسلمانوں کا تیسرا مطالبہ نیابت مطابق آبادی صوبہ میں ہر جماعت کو اس کی تعداد کے مطابق نمائندگی کا حق دیا جائے۔ سوائے اس صورت کے کہ کسی صوبہ میں اقلیت بہت کم ہو ۔ تب اقلیت کو اس کی آبادی سے کسی قدر زیادہ حقوق دیئے جاسکتے ہیں۔ اور اگر ایسا کیا جائے تو جو حقوق ہندو صوبوں میں مسلمانوں کو دیئے جائیں، وہی حقوق ویسے ہی مسلمان صوبوں میں ہندوؤں کو دیئے جائیں۔ اس مطالبہ کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر بڑی قوم جو حساب میں آسکتی ہے اس کے مطالبہ کا خلاصہ حق کو جو اس کی تعداد آبادی کے مطابق بنتا ہو ، محفوظ کر دیا جائے تاکہ دوسری قومیں اپنی چالاکی سے اسے اس کے حق سے محروم نہ کر دیں۔ نہرو رپورٹ نے اس کے متعلق یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ خیال نہرورپورٹ کا فیصلہ عمدہ سیاست کے بالکل خلاف ہے کہ کسی قوم کا حق مقرر کر دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ جو اقوام بہت ہی کم ہیں ان کے حقوق مقرر کر دیئے جائیں۔ اور حق سے زیادہ دینا تو کسی صورت میں بھی درست نہیں۔ اس امر کو سمجھ لینا چاہئے کہ حقوق کی حفاظت انتخاب سے تعلق رکھنے والے امور میں محفوظ نشستوں سے ہوتی ہے۔ یعنی یہ فیصلہ کر دیا جاتا ہے کہ فیصدی کس قدر ممبریاں لازماً فلاں قوم کو ملیں گی اور وہ جگہیں بھی مقرر کر دی جاتی ہیں کہ جہاں سے اس قوم کے سوا کوئی اور ممبر منتخب نہیں ہو سکتا۔ پس حقوق مقرر کرنے سے مراد در حقیقت حلقہ ہائے انتخاب کی تعیین ہوتی ہے کہ اتنے حلقوں سے سوائے فلاں قوم کے امیدوار کے اور کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اب نہرو رپورٹ کے فیصلہ کے مطابق پنجاب اور بنگال کے سوا باقی صوبوں میں اگر اقلیتوں کی خواہش ہوگی تو انہیں ان کی آبادی کی تعداد کے مطابق محفوظ نشستیں دے دی جائیں گی۔ پس اس قانون کے مطابق پنجاب اور بنگال میں تو اپنے اپنے زور سے جس قدر ممبریاں ہندو مسلمان لے جائیں لے جائیں۔ ان کی کوئی حد بندی نہیں ہوگی۔ اور باقی صوبوں میں سے صوبہ سرحدی بلوچستان اور سندھ اگر قائم ہو جائیں۔ تو ہندوؤں کو اختیار ہو گا کہ اگر چاہیں تو اپنی آبادی کے مطابق نشستوں کو ریزرو کرا لیں۔ اور اس سے زائد میں مسلمانوں کا مقابلہ کریں۔ اور ان صوبوں کے سوا باقی صوبوں میں یہی حق مسلمانوں کو حاصل