انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 416

۴۱۶ ان کے اچھے ہونے کی امید بھی نہیں کی جا سکتی- اور اگر اچھے بھی ہو جائیں تو موجودہ حالات میں اس تغیر پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا- کیونکہ پچھلے پندرہ سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سال میں دو تین دفعہ بدلتے ہیں- لیکن غضب یہ ہے کہ جب تعلقات خراب ہوتے ہیں تب بھی مسلمانوں کو ہی نقصان ہوتا ہے اور جب وہ اچھے ہوتے ہیں تب بھی کچھ مسلمانوں کو ہی دینا پڑتا ہے- پس ان حالات میں ہندو مرکزی حکومت سے مسلمانوں کو تو خوف ہو سکتا ہے، ہندوؤں کو نہیں- پنجاب کے مسلمان تو ڈر سکتے ہیں کہ پنجاب کو ہندو مرکزی حکومت ہندو صوبہ نہ بنا دے- یوپی کے ہندو صوبہ کو مرکزی حکومت سے جو اکثریت کی وجہ سے ہندو حکومت ہو گی- کیا خوف ہو سکتا ہے- پس یہ کہنا کہ اثر سب پر برابر ہوگا، ایک دھوکا اور فریب ہے- گورنر یا حکومت برطانیہ دخل نہ دے سکے گی یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ایسے حالات ہونگے تو گورنر یا حکومت برطانیہ دخل دے دے گی- کیونکہ جو لوگ اب مسلمانوں کے مطالبات پورا کرنے کو تیار نہیں وہ آئندہ کب کریں گے- اور پھر کیا اس قدر اہم معاملہ کو گورنر پر چھوڑا جا سکتا ہے- اگر ایک غیر شخص کی رائے پر اس قدر اعتبار ہو سکتا ہے تو سائمن کمیشن )SIMONCOMMISSION) کے خلاف اس قدر جوش کیوں ہے- اس میں تو ایک شخص نہیں بلکہ سات آدمی شامل ہیں اور آئندہ کا معاملہ صرف ایک گورنر سے تعلق رکھے گا- پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ آئینیحکومتوں میں گورنروں کے اختیارات صرف فرضی ہوا کرتے ہیں- نہرو رپورٹ موجودہ شکل میں قابل قبول نہیں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ان شبہات کا ازالہ اس طرح ہو سکتا ہے کہ قانوناساسی میں یہ امر شامل کر دیا جائے کہ صوبہ جات کی حکومت میں مرکزی حکومت دخل نہ دے سکے گی- اور یہ بھی کہ اس کی حدود کو اس کی مرضی کے بغیر بدل نہ سکے گی- اس سے مسلمانوں کی حالت مضبوط ہو جائے گی- تو اس کا جواب یہ ہے کہ آئندہ تغیرات کے بعد نہرورپورٹ کو اچھا بنا دیا جائے تو اس پر ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے- ہمارا دعویٰ تو یہ ہے کہ اس کی موجودہ شکل مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں- مگر اس مخصوص سوال کے متعلق تو میں یہ بھی کہوں گا کہ اس تغیر کے باوجود بھی مسلمانوں کے حقوق محفوظ نہیں ہوتے- کیونکہ اگر قانوناساسی میں اس امر کو داخل بھی کر دیا جائے تو اس امر کا کون ذمہ دار ہے کہ قانون اساسی