انوارالعلوم (جلد 10) — Page 415
۴۱۵ مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی اور وہی حقوق جو مسلمانوں نے اپنے لئے حاصل کئے ہوں گے ہندوؤں کے قبضہ میں چلے جائیں گے- اسی طرح اگر پنجاب میں مرکزی حکومت تبدیلی کر دے- یوپی ایک بہت بڑا صوبہ ہے- پنجاب سے اس کی آبادی قریباً دگنی ہے- اسی طرح پنجاب کے تین اضلاع راولپنڈی، اٹک، میانوالی، افغان طرز رہائش سے زیادہ تعلق رکھتے ہیں بہ نسبت پنجاب کے اور ڈیرہ غازیخان بلوچوں سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے- اگر آئندہ زمانہ میں مرکزی حکومت یہ فیصلہ کر دے کہ افغانوں سے زیادہ مشابہت رکھنے والے پنجابی اضلاع کو صوبہ سرحدی سے ملا دیا جائے اور ڈیرہ غازخان کو بلوچستان سے تو بتاؤ کہ پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت کا کیا باقی رہ جائے گا- اور پھر اگر وہ میرٹھ اور مظفر نگر کے علاقوں کو پنجاب سے ملا دیں- یا انبالہ اور دہلی کے علاقہ کو یوپی سے کاٹ کر پنجاب میں ملا دیں- تو کیا مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں نہ بدل جائے گی- اور ان دو بڑے اسلامی صوبوں میں اسلامیاکثریت کے مٹ جانے سے جس آزاد ترقی کے مسلمان خواہاں ہیں، کیا اس کا کوئی بھی امکاں باقی رہ جائے گا- اسی طرح اور بہت سی باتیں ہیں جن کے ذریعہ سے مرکزی حکومت نہرو رپورٹ کیپیش کردہ طرز حکومت کی رو سے بنگال اور پنجاب کے اسلامی صوبہ جات کو یا تو بالکل مٹا سکتی ہے یا ان میں ہندوؤں کی اکثریت کر سکتی ہے لیکن مسلمانوں کی طرف سے جو مطالبہ ہے، اس کی رو سے ایسا نہیں ہو سکتا- کیونکہ مسلمان فیڈرل حکومت کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں اصل مالک صوبہ جات قرار پاتے ہیں مرکزی حکومت ایک گماشتہ کی حیثیت رکھے گی وہ قانوناً صرف انہی معاملات میں دخل دے سکے گی جن میں دخل دینے کا اختیار اسے صوبہ جات دیں گے اور اس وجہ سے وہ کسی صوبہ کے حدود کو اس صوبہ کے لوگوں کی مرضی کے بغیر تبدیل نہیں کر سکے گی اور نہ صوبہ جات کی حکومت پر الزام لگا کر اس کے اختیار چھین سکے گی- مرکزی حکومت کو سب اختیار ملنے پر مسلمانوں کو کیوں خطرہ ہے اس جگہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مرکزی حکومت کو اختیار تو سب صوبوں کے متعلق ملا ہے- ہندوؤں کے صوبوں کے متعلق بھی اور مسلمانوں کے صوبوں کے متعلق بھی پھر ہمیں کیوں اعتراض ہو- کیونکہ اصل سوال تو اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کے تعلقات اچھے نہیں ہیں- اور قریب زمانہ تک