انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 413 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 413

۴۱۳ دے- یا جب چاہے سب صوبہ جات کے اختیارات کو محدود کر کے اپنے اختیار کو بڑھائے- اور جو نیا کام نکلے بطور حق کے وہ اسی کے حلقہ کار میں ہوگا- وہ اگر چاہے تو صوبہ جات کی طرف اس حق کو منتقل کر دے اور اگر چاہے تو خود اپنے پاس رکھے- ہندو مسلم تعلقات پر دونوں تجاویر کا اثر دونوں تجاویز میں فرق بتانے کے بعد میں اب یہ بتاتا ہوں کہ ہندو مسلم تعلقات پر ان دونوں تجاویر کا کیا اثر پڑتا ہے- یاد رکھنا چاہئے کہ ہندوستان میں چونکہ مسلمان صرف پچیسفیصدی ہیں- اس لئے ان کو خواہ کتنا بھی حق دے دیا جائے- وہ مرکزی حکومت میں ہندوؤں سے بہت کم رہیں گے- نہرو کمیٹی نے انہیں پچیس فیصدی حق دیا ہے- اس صورت میں تین ہندوؤں کے مقابلہ میں ہندوستان کی پارلیمنٹ میں صرف ایک مسلمان ہوگا- اور مسلم لیگ زیادہ سے زیادہ ایک تہائی مانگتی ہے- اس صورت میں دو ہندوؤں کے مقابلہ میں صرف ایک مسلمان ہوگا- اور یہ ظاہر ہے کہ پچھتر کے مقابلہ میں پچیس یا چھیاسٹھ کے مقابلہ میں تینتیس ممبر کچھ بھی نہیں کر سکتے پس مرکزی حکومت لازماً ہندوؤں کے اختیار میں ہوگی- اور وہ جو کچھ چاہیں گے کر سکیں گے- اب چونکہ اصل حاکم ہندوستان کی مرکزی انجمن قرار دی گئی ہے اور صوبہ جات صرف گماشتے بنائے گئے ہیں اس کا لازماً نتیجہ یہ ہوگا کہ باوجود چند صوبے مسلمانوں کی اکثریت کے قرار دینے کے حکومت اصل ہندوؤں کی ہی رہے گی اور وہ جس طرح چاہیں گے کریں گے- پس نہرو کمیٹی نے فیڈرل )FEDERAL) یعنی اتحادی حکومت کو جس میں سب صوبے برابر کے حقدار ہوتے ہیں رد کر کے مسلمانوں کو بالکل بے بس کر دیا جاتا ہے- اس تجویز پر اگر عمل ہو جائے اور باقی سب مطالبات مسلمانوں کے منظور کر لئے جائیں تب بھی مسلمانوں کا کوئی حق حکومت میں باقی نہیں رہتا- اس مضمون کو سمجھانے کے لئے میں اس فرض پر کہ صوبہ جات کے متعلق مسلمانوں کے سب مطالبات کو منظور کر لیا گیا ہے آئندہ کی حالت بتاتا ہوں کہ کیا ہوگی- مرکزی حکومت کو کلی اختیار حاصل ہونے سے ہندو کیا کچھ کریں گے مسلمانوں کے مطالبہ کے ماتحت پنجاب، بنگال، سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحدی میں ایسی حکومت ہوگی جس کا زیادہ عنصر مسلمان ہوگا- اس کے مقابلہ میں یوپی، بہار، مدراس، بمبئی، وسطی صوبوں اور