انوارالعلوم (جلد 10)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 700

انوارالعلوم (جلد 10) — Page 408

۴۰۸ ہے- اس قسم کے واقعات دنیا میں کثرت سے ہوتے رہتے ہیں- چنانچہ یونانی حکومت میں بلغاریوں کے ساتھ اسی بنا پر ظلم ہوتا رہتا ہے- اسی طرح لیتھونیا میں پولز اور پولینڈ میں لیتھونینز کے ساتھ یہ سبب بھی ہندوستان میں موجود ہے- مسلمان اپنی مذہبی روایات کی بنا پر تمام دنیا کے مسلمان کو اپنا بھائی سمجھتے ہیں- اور شدت سے ان کی مصائب سے متاثر ہوتے ہیں- اور یہی حال باہر کے مسلمانوں کا ہے گو ایک دوسرے کی مصیبت میں مدد نہ دیں، لیکن ان سے متاثر ضرور ہو جاتے ہیں اور ان کی ہمدردی کرتے ہیں- پس ایسی صورت میں ہندوستان کی اکثریت ضرور ان سے مشتبہ رہے گی- اور ان کی ترقی کے راستہ میں روک بنے گی- یہ شبہ وہمی نہیں ہے، بلکہ اب بھی ہندو عام طور پر شاکی نظر آتے ہیں کہ مسلمان اپنے آپ کو پورے طور پر ہندوستانی نہیں سمجھتے- بلکہ غیر ملکیوں سے بہت راہ و رسم رکھتے ہیں- گو وہ اس وقت منہ سے نہیں کہتے- لیکن ان کے دل میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کل کو اگر افغانستان- ایران یا عرب سے ہندوستان کی جنگ چھڑی تو مسلمان کیا کریں گے- کیا یہ سرحد پار کے مسلمان بھائیوں کی تائید نہیں کریں گے- اگر ایسا کریں گے تو یقیناً ہندوستان کی حکومت میں ہمیشہ ایک کمزور عنصر موجود رہے گا- اب یہ بات تو اللہ تعالیٰٰ ہی جانتا ہے کہ ایسا موقع پیش آئے تو مسلمان کیا کریں گے- لیکن یہ شبہ جس کا اظہار کئی دفعہ ہندو لیڈر کر چکے ہیں ان کے دلوں میں ضرور کھٹکتا رہے گا اور اس کی بنا پر وہ مسلمانوں کی ترقی میں روڑا اٹکانے کو حب الوطنی کا ایک اعلیٰ فعل خیال کریں گے- میں اس سوال کے بارہ میں اس حد تک تو ہندوؤں سے متفق ہوں کہ حب الوطنی کے جذبات کو انصاف کی حدود کے اندر بڑھانا ملکی حکومت کے لئے ضروری ہے- لیکن میں یہ بھی نہیں سمجھ سکتا کہ مسلمان اپنے اس وسیع جذبہ محبت کو جو وہ کل دنیا کے مسلمانوں سے رکھتا ہے- کس طرح دور کر سکتا ہے- وہ صدیوں سے اسے ورثہ میں مل رہا ہے اور درحقیقت وہ اب اس کی طبیعت ثانیہ بن گیا ہے- اور پھر انصاف کی شرط جو حب الوطنی کے ساتھ میں نے لگائی ہے، اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- کل کو ہندوستان عرب پر اوم کا جھنڈا کھڑا کرنے کی نیت کرے جیسا کہ آریہ لیڈر کہہ چکے ہیں تو یقیناً مسلمان اس وقت اپنی اعلیٰ ذمہ داریوں کو ملکی ذمہ داری پر قربان نہیں کر سکے گا- چھٹی وجہ چھٹا سبب جو اکثریت کو اقلیت کے دبا دینے یا دبائے رکھنے پر مجبور کرتا ہے یہ ہے کہ اکثریت اقلیت کی گری ہوئی اقتصادی حالت سے فائدہ اٹھا رہی ہو اور خیال